اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
نظم

بے سمت لمحے – نظم کی تشریح | سید دانش نقوی | جدید انسان کی فکری بے یقینی

دانش فراق ہفتہ، 13 جون 2026
👁 586 ❤️ 1
لمحے میرے ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں
جیسے ریت پانی میں
اور میں صرف دیکھتا رہتا ہوں
کچھ بھی ٹھہرتا نہیں
نہ خوشی
نہ درد
نہ کوئی فیصلہ
میں ہر صبح
ایک نئے سوال کے ساتھ اٹھتا ہوں
اور ہر رات
بغیر جواب کے سو جاتا ہوں
یہ زندگی نہیں شاید
بس بے سمت چلتی ہوئی سانس ہے
جو خود بھی نہیں جانتی
کہ کہاں جا رہی ہے
📖 Summary

نظم "بے سمت لمحے" میں شاعر زندگی کی اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں وقت تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے اور انسان اسے روکنے سے قاصر رہتا ہے۔ خوشی ہو یا غم، کوئی بھی کیفیت مستقل نہیں رہتی۔ شاعر ہر روز نئے سوالات کے ساتھ زندگی کا آغاز کرتا ہے مگر رات تک ان سوالوں کے جواب نہیں ملتے۔ نظم میں جدید انسان کی فکری الجھن، بے یقینی اور مقصدیت کی تلاش نمایاں ہے۔ آخری مصرعوں میں زندگی کو ایک ایسی سانس قرار دیا گیا ہے جو خود اپنی منزل سے ناواقف ہے، جس سے نظم کا وجودی اور فلسفیانہ پہلو مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

← Previous Next →

✍️ سید دانش نقوی — Short Introduction

📍 ڈسکہ

شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق

نظم What is it?

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

More by دانش فراق
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ہے...
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا دل گرفتہ فضا رہی ہے آج ‎آپ  ک...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زمانہ ...
نقشِ تمثالِ فریبِ رنگِ امکاں اور ہے آئینہ ادراک میں آئینِ حیراں اور ہے جلوۂ تعبیرِ خوابِ آرزو کے روب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online