بے سمت لمحے – نظم کی تشریح | سید دانش نقوی | جدید انسان کی فکری بے یقینی
نظم "بے سمت لمحے" میں شاعر زندگی کی اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں وقت تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے اور انسان اسے روکنے سے قاصر رہتا ہے۔ خوشی ہو یا غم، کوئی بھی کیفیت مستقل نہیں رہتی۔ شاعر ہر روز نئے سوالات کے ساتھ زندگی کا آغاز کرتا ہے مگر رات تک ان سوالوں کے جواب نہیں ملتے۔ نظم میں جدید انسان کی فکری الجھن، بے یقینی اور مقصدیت کی تلاش نمایاں ہے۔ آخری مصرعوں میں زندگی کو ایک ایسی سانس قرار دیا گیا ہے جو خود اپنی منزل سے ناواقف ہے، جس سے نظم کا وجودی اور فلسفیانہ پہلو مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
✍️ سید دانش نقوی — Short Introduction
شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔




No comments yet — be the first!