اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
متفرق

سید دانش نقوی کے متفرق اشعار | دردِ ہجر، یادِ محبوب اور کیفیتِ دل

دانش فراق جمعرات، 11 جون 2026
👁 549 ❤️ 1
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا
آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا
دل گرفتہ فضا رہی ہے آج
‎آپ  کی  یاد آ رہی ہے آج
ایک زخمِ ناگہاں پر صبر کرنا تھا محال
‎یاد آئے اس گھڑی صد داغِ ہجراں اور بھی
📖 خلاصہ

سید دانش نقوی کے ان متفرق اشعار میں عشق، جدائی، یادِ محبوب اور دل کی بے قراری کو موضوع بنایا گیا ہے۔ پہلے شعر میں محبوب کے جدا ہونے کو ایسی قیامت قرار دیا گیا ہے جس سے دل کے گھر میں دھواں سا اٹھنے لگتا ہے اور گویا زندگی کی رونق ہی ختم ہو جاتی ہے۔ دوسرے شعر میں محبوب کی یاد سے وابستہ اداسی اور دل گرفتگی کا بیان ہے، جہاں پوری فضا غم آلود محسوس ہوتی ہے۔ تیسرے شعر میں شاعر ایک اچانک لگنے والے زخم کو یاد کرتے ہوئے ماضی کے تمام دکھوں اور ہجر کے زخموں کو بھی تازہ محسوس کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اشعار ا

← پچھلا اگلا →

✍️ سید دانش نقوی — مختصر تعارف

📍 ڈسکہ

شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق

دانش فراق کی مزید
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ہے...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زمانہ ...
نقشِ تمثالِ فریبِ رنگِ امکاں اور ہے آئینہ ادراک میں آئینِ حیراں اور ہے جلوۂ تعبیرِ خوابِ آرزو کے روب...
درد کی شب میں چراغِ آرزو جلتا رہا دل کسی موہوم نقشے کی طرف جاتا رہا شوق کے صحرا میں نقشِ آرزو بنتا ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن