اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

ہوا ہے دل مرا مشتاق تجھ چشمِ شرابی کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ اور ادبی جائزہ

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 36 ❤️ 0
ہوا ہے دل مرا مشتاق تجھ چشمِ شرابی کا
خراباتی اُپر آیا ہے شاید دن خرابی کا
کیا مدہوش مجھ دل کو انیندی نین ساقی نے
عجب رکھتا ہے کیفیت زمانہ نیم خوابی کا
خطِ شب رنگ رکھتا ہے عداوت حسنِ خوباں سوں
کہ جیوں خفّاش ہے دشمن شعاعِ آفتابی کا
نہ جاؤں صحنِ گلشن میں کہ خوش آتا نہیں مجھ کوں
بغیر از ماہ رُو ہرگز تماشا ماہتابی کا
نہ پوچھو اب ہوا ہے ہم سخن وہ دلبرِ رنگیں
عجب تصویر پر ہے رنگِ دائم لاجوابی کا
پری رُخ کو اٹھانا نیند سوں بر جا نہیں عاشق
عجب کچھ لطف رکھتا ہے زمانہ نیم خوابی کا
نہ جانوں کس پری رُو سوں ہوا ہے جا کے ہم زانو
کہ آئینے نے پایا ہے لقب حیرت مآبی کا
ولی سوں بے حسابی بات کرنا بے حسابی ہے
نہیں وہ آشنا اے یار ہرگز بے حسابی کا
📖 Summary

ولی دکنی کی اس غزل میں عشق کی سرمستی اور محبوب کی آنکھوں کے جادو کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کی چشمِ شرابی دل کو اس قدر متاثر کرتی ہے کہ عاشق کی زندگی ایک مسلسل مدہوشی اور نیم خوابی کی کیفیت میں بدل جاتی ہے۔ عشق کی یہ حالت نہ مکمل بیداری ہے اور نہ مکمل نیند، بلکہ ایک درمیانی کیفیت ہے جس میں حقیقت اور خواب کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔
غزل میں خطِ شب رنگ، خفاش، ماہتاب اور پری رُخ جیسے استعاروں کے ذریعے حسن اور نور و ظلمت کی کشمکش کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کے مطابق محبوب کی موجود

← Previous Next →

✍️ ولی دکنی — Short Introduction

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ولی دکنی
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online