اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 8 ❤️ 0
الٰہی! رکھ مجھے تو خاکِ پا اہلِ معانی کا
کہ کھلتا ہے اسی صحبت سے نسخہ نکتہ دانی کا
کیا یک بات میں واقف مجھے رازِ نہانی کا
لکھوں غنچے اُپر حرف اُس دہن کی نکتہ دانی کا
کتابت بھیجنی ہے شمع بزمِ دل کوں اے کاتب
پرِ پروانہ اوپر لکھ سخن مجھ جاں فشانی کا
عزیزاں بعد مرنے کے نہ پوچھو تم کہ تنہا ہوں
لکھا ہوں پردۂ دل پر خیال اس یارِ جانی کا
چھپا کر پردۂ فانوس میں رخ شمع گریاں ہے
سنیا ہے جب سوں آوازہ تری روشن بیانی کا
پرت کی بزم میں تا سرخ روئی مجھکو ہو حاصل
نین سوں اپنے دے ساغر شرابِ ارغوانی کا
بجا ہے گر کرے پرواز رنگِ چہرۂ عاشق
ہوا ہے ذوق موہن کو لباسِ زعفرانی کا
ترے مکھ کی صفائے حیرت افزا لکھ سکے کیوں کر
قلم ہے جوہرِ آئینۂ ناصافِ مانی کا
رہے وہ مُو کمر جیوں دیدۂ تصویر حیراں ہو
لکھے گر خامۂ موسوں بیاں مجھ ناتوانی کا
شرابِ جلوۂ ساقی سوں مت کر منع اے زاہد
یہی ہے مقتضا عالم میں ہنگامِ جوانی کا
ولی جن نے نہ باندھا دل کوں اپنے نونہالوں سوں
نہ پایا اُن نے پھل ہرگز جہاں میں زندگانی کا
📖 خلاصہ

ولی دکنی کی اس غزل میں علمِ معنی، نکتہ دانی اور روحانی بصیرت کی اہمیت کو مرکزی خیال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر خدا سے دعا کرتا ہے کہ اسے اہلِ معنی کی خاکِ پا بنا دے، کیونکہ حقیقی علم و حکمت انہی ک…

← پچھلا اگلا →

✍️ ولی دکنی — مختصر تعارف

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ولی دکنی کی مزید
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی ب...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ ح...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اش...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن