اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا – ولی دکنی کی غزل | خلاصہ، تشریح اور ادبی جائزہ

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 36 ❤️ 0
دیکھنا ہر صبح تجھ رُخسار کا
ہے مطالعہ مطلعِ انوار کا
بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں
کام ہے تجھ چہرۂ گلنار کا
یاد کرنا ہر گھڑی اُس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
صبح تیرا درس پایا تھا صنم
شوقِ دل محتاج ہے تکرار کا
آرزوئے چشمۂ کوثر نہیں
تشنہ لب ہوں شربتِ دیدار کا
عاقبت کیا ہووے گا؟ معلوم نہیں
دل ہوا ہے مبتلا دِلدار کا
مسندِ غل منزلِ شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدۂ بیمار کا
ماہ کے سینے اُپر اے شمع رو
داغ ہے تجھ حُسن کی جھلکار کا
دل کو دیتا ہے ہمارے پیچ و تاب
پیچ تیرے طُرّۂ طرّار کا
جو سُنیا تیرے دہن سوں یک بچن
بھید پایا نسخۂ اسرار کا
چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشت
جا تماشا دیکھ اس رخسار کا
اے ولیؔؔ کیوں سن سکے ناصح کی بات
جو دِوانا ہے پری رخسار کا
📖 Summary

ولی دکنی کی اس غزل میں محبوب کے رخسار کو نور و روشنی کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کے چہرے کا دیدار ایسا ہے جیسے انوار کی نئی دنیا کا مطالعہ کیا جا رہا ہو۔ غزل میں عشق کو زندگی کا مستقل وظیفہ اور محبوب کی یاد کو دلِ بیمار کا سہارا بتایا گیا ہے۔ شاعر جنت کی نعمتوں سے زیادہ محبوب کے دیدار کا خواہش مند ہے اور اس کے حسن کو بہشت سے بڑھ کر قرار دیتا ہے۔ زلف، رخسار، دہن، شمع، ماہ اور گل جیسے کلاسیکی استعارے غزل کی جمالیاتی فضا کو مزید دلکش بناتے ہیں۔ آخری شعر میں شاعر عشق کی ایسی کیفیت

← Previous Next →

✍️ ولی دکنی — Short Introduction

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ولی دکنی
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online