اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا – ولی دکنی کی صوفیانہ غزل | خلاصہ، تشریح اور ادبی جائزہ

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 38 ❤️ 0
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا
آرزوئے چشمۂ کوثر نہیں
تشنہ لب ہوں شربتِ دیدار کا
عاقبت کیا ہووے گا؟ معلوم نہیں
دل ہوا ہے، مبتلا دلدار کا
کیا کہے تعریف دل ہے بے نظیر!
حرفِ حرف اس مخزنِ اسرار کا
گر ہوا ہے طالبِ آزادگی
بند مت ہو سجۂ و زنار کا
مسند گل منزلِ شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدۂ بیدار کا
اے ولیؔ ہونا سری جن پر نثار
مدعا ہے چشم گوہر بار کا
📖 सार

ولی دکنی کی اس غزل میں محبوب کی یاد کو زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ اور دلِ بیمار کا مستقل وظیفہ قرار دیا گیا ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کا دیدار جنت کی نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، اسی لیے وہ چشمۂ کوثر کے بجائے شربتِ دیدار کا طلبگار ہے۔ غزل میں عشق کو ایک ایسی کیفیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کو اپنے وجود کی گہرائیوں سے آشنا کرتی ہے۔ شاعر دل کو اسرار و رموز کا خزانہ قرار دیتا ہے اور انسان کو ظاہری پابندیوں اور رسوم سے بلند ہو کر حقیقی آزادی کی تلاش کی دعوت دیتا ہے۔ آخری اشعار میں بیدار نگاہ،

← पिछला अगला →

✍️ ولی دکنی — संक्षिप्त परिचय

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ولی دکنی की और रचनाएँ
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन