لطیفہ
لطیفہ
ہی تو ہے یہ زندگی
ہاں
دیکھو تو
ایک لطیف سا احساس
سوچو تو
محض مرنے پر قیاس
اس لطیفے میں
جینے کی آرزو بھی ہے
سب پانے کی جستجو بھی ہے
کثافت لیے دلوں میں
منافقت بھرے لہجوں میں
شاطرانہ چالیں چلتے ہوئے
خواہشوں میں بچھو
آستین میں
سانپ پلتے ہوئے
سینچ کر خون جگر سے نفرتیں
کف افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے
جو زد میں آگیا
وہ روتا رہا
جو بچ گیا
وہ خوش ہوتا رہا
ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے ہوئے
ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے ہوئے
زندگی گزارنے کا سلیقہ کہاں
بندگی نبھانے کا طریقہ کہاں
ایک شوروغوغا ،تماشہ ہی تو ہے
بے ہنگم سا ہنگامہ ہی تو ہے
زندگی لطیفہ ہی تو ہے
اور یہ بےحسی
ایک وظیفہ ہی تو ہے
جسے سمجھنا بھی مشکل
سمجھانا بھی مشکل
قدرت کا ایک صحیفہ تو ہے
یہ زندگی
ایک لطیفہ ہی تو ہے
ہاں
لطیفہ ہی تو ہے !!
یہ نظم زندگی کی حقیقت کو ایک طنزیہ اور فلسفیانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر زندگی کو ایک “لطیفہ” قرار دیتا ہے—یعنی بظاہر ہلکی پھلکی مگر درحقیقت گہری، پیچیدہ اور تضادات سے بھری ہوئی شے۔ ایک طرف جینے کی…
✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف
ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …
مزید پڑھیں ←



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!