اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نثری نظم

لطیفہ

لطیفہ
ارم رحمٰن
ارم رحمٰن پیر، 25 مئی 2026
👁 9 ❤️ 0

لطیفہ
ہی تو ہے یہ زندگی
ہاں
دیکھو تو
ایک لطیف سا احساس
سوچو تو
محض مرنے پر قیاس
اس لطیفے میں
جینے کی آرزو بھی ہے
سب پانے کی جستجو بھی ہے
کثافت لیے دلوں میں
منافقت بھرے لہجوں میں
شاطرانہ چالیں چلتے ہوئے
خواہشوں میں بچھو
آستین میں
سانپ پلتے ہوئے
سینچ کر خون جگر سے نفرتیں
کف افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے
جو زد میں آگیا
وہ روتا رہا
جو بچ گیا
وہ خوش ہوتا رہا
ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے ہوئے
ایک دوسرے کو نیچا دکھاتے ہوئے
زندگی گزارنے کا سلیقہ کہاں
بندگی نبھانے کا طریقہ کہاں
ایک شوروغوغا ،تماشہ ہی تو ہے
بے ہنگم سا ہنگامہ ہی تو ہے
زندگی لطیفہ ہی تو ہے
اور یہ بےحسی
ایک وظیفہ ہی تو ہے
جسے سمجھنا بھی مشکل
سمجھانا بھی مشکل
قدرت کا ایک صحیفہ تو ہے
یہ زندگی
ایک لطیفہ ہی تو ہے
ہاں
لطیفہ ہی تو ہے !!

📖 خلاصہ

یہ نظم زندگی کی حقیقت کو ایک طنزیہ اور فلسفیانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر زندگی کو ایک “لطیفہ” قرار دیتا ہے—یعنی بظاہر ہلکی پھلکی مگر درحقیقت گہری، پیچیدہ اور تضادات سے بھری ہوئی شے۔ ایک طرف جینے کی…

✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف

ارم رحمٰن
📍 لاہور، پاکستان

ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …

مزید پڑھیں ←
ارم رحمٰن کی مزید تحریریں
روشنی
اسٹیج سج چکا تھا ۔ ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ آج خلاف معمول زیادہ رش ت...
قل زردہ
بڑے سے گھر کے ،بڑے سے صحن میں، جب بڑی بی کے قل کے اہتمام میں 6 دیگیں تین بریانی ...
حنوط
بارش کے بعد مٹی سے نکلتی سوندھی سوندھی خوشبو، مجھے بہت پسند تھی، سردیوں کے موسم ...
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خرا...
مزید متعلقہ نثر
زعفرانی، سفید، ہرا
میں نے جب پہلی بار اپنے اسکول کی چھت پر لہراتا ہوا ترنگا دیکھا تھا تو مجھے صرف...
جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے، جنون قتل کر کے افسوس کرتا، جنون ہی رموزِ قلب ...
گود کے لیے ترستی کویتا
ہرکویتا کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے جیسے تمہاری پالتو بلی تمہاری گود کا ل...
میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی میرے آنسوؤں کے قلم سے میری روح سنگ مرمر کی مانند ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن