اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ – ولی دکنی کی کلاسیکی غزل

ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 50 ❤️ 0
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ
کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ
وفاداری نے داہر کی بجھایا آتشِ غم کوں
کہ گرمی دفع کرتا ہے گلاب آہستہ آہستہ
عجب کچھ لطف رکھتا ہے شبِ خلوت میں گلروسوں
سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ
مرے دل کوں کیا بے خود تری انکھیاں نے اے ظالم
کہ جیوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ
ہوا تجھ عشق سوں اے آتشیں رودوں مرا پانی
کہ جوں گلتا ہے آتش سوں کباب آہستہ آہستہ
ادا و ناز سوں آتا ہے وہ روشن جبیں گھر سوں
کہ جیوں مشرق سے نکلے آفتاب آہستہ آہستہ
ولی مجھ دل میں آتا ہے خیالِ یارِ بے پروا
کہ جیوں انکھیاں منیں آتا ہے خواب آہستہ آہستہ
📖 सार

ولی دکنی کی یہ غزل عشق کی ان کیفیات کو بیان کرتی ہے جو انسان کی زندگی میں بتدریج اثر انداز ہوتی ہیں۔ شاعر محبوب کے حسن، اس کی آنکھوں، ادا اور ناز کا ذکر کرتے ہوئے عشق کے نشے اور اس کے گہرے اثرات کو مختلف تشبیہوں کے ذریعے واضح کرتا ہے۔ غزل میں گلاب، شراب، آفتاب، خواب اور کباب جیسی علامتوں کا استعمال عشق کی شدت اور حسنِ محبوب کی کشش کو نمایاں کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک محبت اچانک نہیں بلکہ آہستہ آہستہ دل و جان پر غالب آتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کلی گلاب بنتی ہے یا خواب خاموشی سے آنکھوں میں اترتا ہے۔ ی

← पिछला अगला →

✍️ ولی دکنی — संक्षिप्त परिचय

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ولی دکنی की और रचनाएँ
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی بجھای...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ حسن اد...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اشک خو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन