اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
جاں نثار اختر پیر، 8 جون 2026
👁 14 ❤️ 0
پلا ساقیا ! بادۂ خانہ ساز
کہ ہندوستاں پر رہے ہم کو ناز
محبت ہے خاک وطن سے ہمیں
محبت ہے اپنے چمن سے ہمیں
ہمیں اپنے صبحوں ، شاموں سے پیار
ہمیں اپنے شہروں کے ناموں سے پیار
ہمیں پیار اپنے ہر اک گاؤں سے
گھنے برگدوں کی گھنی چھاؤں سے
ہمیں پیار اپنی عمارات سے
ہمیں پیار اپنی روایات سے
ہمیں پیار ہے اپنی تہذیب سے
ہمیں پیار ہے اپنی ہر چیز سے
اٹھائے جو کوئی نظر کیا مجال
ترے رند لیں بڑھ کے آنکھیں نکال
سلامت رہیں اپنے دشت و دمن
رہے گنگناتا ہمارا گگن
نگاہیں ہمالہ کی اونچی رہیں
سدا چاند تاروں کو چھوتی رہیں
📖 خلاصہ

جاں نثار اختر کی یہ نظم وطن سے بے لوث محبت اور قومی فخر کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔ شاعر اپنے ملک کی سرزمین، باغات، شہروں، دیہاتوں، عمارتوں، روایات اور تہذیب سے گہری وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔ نظم میں وط…

← پچھلا اگلا →

✍️ جاں نثار اختر — مختصر تعارف

جاں نثار اختر
📍 گوالیار ، ہند

جاں نثار اختر: محبت، فکر اور فن کا درخشاں استعارہ
اردو ادب کی بیسویں صدی کئی ایسے نامور شعرا سے مزین ہے جنہوں نے اپنے عہد کے جذبات، خوابوں اور سماجی شعور کو الفاظ کا پیکر عطا کیا۔ ان ہی ممتاز شخصیات میں سید جاں نثار حسین رضوی، جو ادبی دنیا میں جاں نثار اختر کے نام سے معروف ہیں، ایک نہایت اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایسے شاعر تھے جن کی شاعری میں محبت کی لطافت، انسان دوستی کا جذبہ اور ترقی پسند فکر کی ح …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

جاں نثار اختر کی مزید
آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر اس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر آج بھی جیسے ...
ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے جو آنسووں میں کبھی رات...
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ...
ایک تو نیناں کجرارے اوراس پر ڈوبے کاجل میں بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں آج ذرا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن