نظم
ــــــ کی گود میں بلی دیکھ کر | علامہ اقبال
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 43
❤️ 0
تجھ کو دزديدہ نگاہي يہ سکھا دي کس نے
رمز آغاز محبت کي بتا دي کس نے
ہر ادا سے تيري پيدا ہے محبت کيسي
نيلي آنکھوں سے ٹپکتي ہے ذکاوت کيسي
ديکھتي ہے کبھي ان کو، کبھي شرماتي ہے
کبھي اٹھتي ہے ، کبھي ليٹ کے سو جاتي ہے
آنکھ تيري صفت آئنہ حيران ہے کيا
نور آگاہي سے روشن تري پہچان ہے کيا
مارتي ہے انھيں پونہچوں سے، عجب ناز ہے يہ
چھيڑ ہے ، غصہ ہے يا پيار کا انداز ہے يہ؟
شوخ تو ہوگي تو گودي سے اتاريں گے تجھے
گر گيا پھول جو سينے کا تو ماريں گے تجھے
کيا تجسس ہے تجھے ، کس کي تمنائي ہے
آہ! کيا تو بھي اسي چيز کي سودائي ہے
خاص انسان سے کچھ حسن کا احساس نہيں
صورت دل ہے يہ ہر چيز کے باطن ميں مکيں
شيشہ دہر ميں مانند مے ناب ہے عشق
روح خورشيد ہے، خون رگ مہتاب ہے عشق
دل ہر ذرہ ميں پوشيدہ کسک ہے اس کي
نور يہ وہ ہے کہ ہر شے ميں جھلک ہے اس کي
کہيں سامان مسرت، کہيں ساز غم ہے
کہيں گوہر ہے ، کہيں اشک ، کہيں شبنم ہے
📖 Summary
نظم میں ایک معمولی منظر سے گہرا سماجی اور نفسیاتی مفہوم اخذ کیا گیا ہے۔
✍️ محمد اقبال — Short Introduction
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
Read more ←
نظم What is it?
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
More by محمد اقبال
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سنا دی...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک وطنیت صدا...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...




No comments yet — be the first!