غزل
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 5
❤️ 0
لائوں وہ تنکے کہيں سے آشيانے کے ليے
بجلياں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے ليے
وائے ناکامي ، فلک نے تاک کر توڑا اسے
ميں نے جس ڈالي کو تاڑا آشيانے کے ليے
آنکھ مل جاتي ہے ہفتاد و دو ملت سے تری
ايک پيمانہ ترا سارے زمانے کے ليے
دل ميں کوئي اس طرح کي آرزو پيدا کروں
لوٹ جائے آسماں ميرے مٹانے کے ليے
جمع کر خرمن تو پہلے دانہ دانہ چن کے تو
آ ہي نکلے گي کوئي بجلي جلانے کے ليے
پاس تھا ناکامي صياد کا اے ہم صفير
ورنہ ميں ، اور اڑ کے آتا ايک دانے کے ليے!
اس چمن ميں مرغ دل گائے نہ آزادي کا گيت
آہ يہ گلشن نہيں ايسے ترانے کے ليے
📖 خلاصہ
غزل میں انسان کی تعمیری سوچ، امید اور مسلسل کوشش کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!