اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

مصلے پہ بیٹھی رہی رات بھر ماں

عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 5 جون 2026
👁 48 ❤️ 0
رہوں بن کے تیرا میں لختِ جگر ماں
ہمیشہ رہے مجھ پہ تیری نظر ماں
جھکائے ہوئے ہیں ترے پا پہ سر ماں
ابوبکر، عثمان، حیدر، عمر ماں
میں آوارہ سڑکوں پہ پھرتا رہا اور
"مصلے پہ بیٹھی رہی رات بھر ماں "
ترے پاک دامن، کفالت کے صدقے
ہے شیدائے حسنین تیرا پسر ماں
لئے اپنے ہاتھوں میں زادِ سفر کو
مری منتظِر ماں، مرا منتظَر ماں
میں اک ساتھ دو قبلہ دیکھوں خدایا
مرے ساتھ طیبہ کا کر لے سفر ماں
محبت، مروت، نصیحت کا مرکز
دعاؤں کا پیکر وفا کا شجر ماں
اسد جا کے مرقد پہ رو رو کے بولا
کروں زندگی کیسے اپنی بسر ماں
📖 Summary

یہ نظم شاعر عبدالدیان اسد کی جانب سے ماں کی عظمت، محبت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ ماں کی دعائیں، شفقت اور تربیت ہی اولاد کی اصل دولت ہیں۔ نظم میں ماں کے سجدوں، دعاؤں، کفالت اور بے لوث محبت کا ذکر نہایت جذباتی انداز میں کیا گیا ہے۔ آخری شعر میں شاعر اپنی مرحومہ ماں کے مزار پر کھڑے ہو کر جدائی کے کرب اور تنہائی کا اظہار کرتا ہے، جس سے نظم مزید اثر انگیز بن جاتی ہے۔

← Previous Next →
More by عبدالدیان اسدؔ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online