غزل
ہم سے مجنون دل لٹا کر کے – محبت، درد اور دعا کی دلنشیں غزل | عارف عاصوی شاعری
عارف عاصوی
بدھ، 3 جون 2026
👁 165
❤️ 3
ہم سے مجنون دل لٹا کر کے
بے وفا ہوگئے وفا کر کے
کتنے معصوم ہیں مرے اپنے
خود خفا ہوگئے دغا کر کے
درد دل ساتھ تھا تو زندہ تھے
مر گئے عشق کی دوا کر کے
اپنے بچوں کے واسطے مائیں
روٹیاں رکھتی ہیں چھپا کر کے
چھوڑ کر جاں کو دور جانے کا
ہوں پریشان فیصلہ کر کے
پا لیا میں نے اپنے مولا کو
دوشمنوں کے لیے دعا کر کے
تو کبھی اپنے آپ کو عارف
دیکھ لیتا انا ہٹا کر کے
📖 सार
ہم سے مجنون دل لٹا کر کے بے وفا ہوگئے وفا کر کے — محبت، بے وفائی، دردِ دل، ماں کی عظمت، دعا اور خود احتسابی کے جذبات سے بھرپور عارف کی خوبصورت غزل، دل کو چھو لینے والے اشعار کے ساتھ۔
یہ غزل محبت، بے وفائی، ایثار، صبر، دعا اور خود شناسی کے مختلف پہلوؤں کو نہایت سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ شاعر محبوب کی بے وفائی، اپنوں کی دغا اور عشق کے درد کا ذکر کرتے ہوئے انسانی رشتوں کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک شعر میں ماں کی قربانی اور بچوں کے لیے اس کی محبت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جب
#عارف کی غزل
#اردو غزل
#محبت کی شاعری
#بے وفائی کی شاعری
#درد دل کے اشعار
#ماں کی عظمت
#دعا کی اہمیت
#اردو ادب
#بہترین غزل
#نئی اردو شاعری
#عشق و محبت
#دل کو چھو لینے والے اشعار
#اردو شعر و سخن
#غزل کے اشعار
#عارف شاعری
عارف عاصوی की और रचनाएँ
علی ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ ایک دن اسے راستے میں سو روپے ملے۔ وہ چاہتا تو ان پیسوں سے کھلونے خرید لیتا، ...
ایک چیونٹی ہر روز دانہ اٹھا کر اپنے گھر لے جاتی تھی۔ ایک ٹڈا اسے دیکھ کر ہنستا اور کہتا، “اتنی محنت ...
ایک بچہ روز ایک درخت کو پتھر مارتا تھا۔ ایک دن سخت گرمی میں وہ بہت تھک گیا۔ اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر...
احمد ہمیشہ اپنا کام ادھورا چھوڑ دیتا تھا۔ اس کی ماں نے اسے ایک دن آدھا بنا ہوا گھونسلہ دکھایا اور کہ...




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!