اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

ہم سے مجنون دل لٹا کر کے – محبت، درد اور دعا کی دلنشیں غزل | عارف عاصوی شاعری

عارف عاصوی بدھ، 3 جون 2026
👁 167 ❤️ 3
ہم سے مجنون دل لٹا کر کے
بے وفا ہوگئے وفا کر کے
کتنے معصوم ہیں مرے اپنے
خود خفا ہوگئے دغا کر کے
درد دل ساتھ تھا تو زندہ تھے
مر گئے عشق کی دوا کر کے
اپنے بچوں کے واسطے مائیں
روٹیاں رکھتی ہیں چھپا کر کے
چھوڑ کر جاں کو دور جانے کا
ہوں پریشان فیصلہ کر کے
پا لیا میں نے اپنے مولا کو
دوشمنوں کے لیے دعا کر کے
تو کبھی اپنے آپ کو عارف
دیکھ لیتا انا ہٹا کر کے
📖 Summary

ہم سے مجنون دل لٹا کر کے بے وفا ہوگئے وفا کر کے — محبت، بے وفائی، دردِ دل، ماں کی عظمت، دعا اور خود احتسابی کے جذبات سے بھرپور عارف کی خوبصورت غزل، دل کو چھو لینے والے اشعار کے ساتھ۔
یہ غزل محبت، بے وفائی، ایثار، صبر، دعا اور خود شناسی کے مختلف پہلوؤں کو نہایت سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ شاعر محبوب کی بے وفائی، اپنوں کی دغا اور عشق کے درد کا ذکر کرتے ہوئے انسانی رشتوں کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک شعر میں ماں کی قربانی اور بچوں کے لیے اس کی محبت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جب

← Previous Next →
More by عارف عاصوی
علی ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ ایک دن اسے راستے میں سو روپے ملے۔ وہ چاہتا تو ان پیسوں سے کھلونے خرید لیتا، ...
ایک چیونٹی ہر روز دانہ اٹھا کر اپنے گھر لے جاتی تھی۔ ایک ٹڈا اسے دیکھ کر ہنستا اور کہتا، “اتنی محنت ...
ایک بچہ روز ایک درخت کو پتھر مارتا تھا۔ ایک دن سخت گرمی میں وہ بہت تھک گیا۔ اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر...
احمد ہمیشہ اپنا کام ادھورا چھوڑ دیتا تھا۔ اس کی ماں نے اسے ایک دن آدھا بنا ہوا گھونسلہ دکھایا اور کہ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online