جب بھی دیکھے گا مجھے اپنا ہوا دیکھے گا
یہ خوبصورت اردو غزل وفا، محبت، ایثار اور دعا کے جذبات سے بھرپور ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے بے لوث محبت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہمیشہ وفادار، خیر خواہ اور دعا گو صورت میں پیش کرتا ہے۔ ہر شعر میں عشق کی پاکیزگی اور تعلق کی گہرائی نمایاں ہے۔
یہ غزل خالص رومانوی اور جذباتی رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے جس میں شاعر اپنے محبوب سے بے حد محبت، وفا اور خلوص کا اظہار کرتا ہے۔ وہ محبوب کے سامنے خود کو ہمیشہ وفادار ثابت کرتا ہے اور اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ اس کے دل میں کوئی شکوہ یا شکایت نہیں بلکہ صرف دعا اور خیر خواہ
✍️ ہاشم اسدؔ — संक्षिप्त परिचय
محمد ہاشم ادریسی، جن کا ادبی و قلمی نام ہاشم اسدؔ لبیدپوری ہے، اردو شعر و ادب کے اُن باصلاحیت تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی فکری سنجیدگی، ادبی ذوق اور تخلیقی شعور کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ کی ولادت 30 جون 1992ء کو گرام لبیدپور، ضلع لکھیم پور کھیری، ریاست اترپردیش (ہندوستان) میں ہوئی۔
ابتدائی زندگی سے ہی مطالعہ، علم دوستی اور ادبی ذوق آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف رہا۔ …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!