اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

ہر طرف ظلم و تباہی کے سمندر دیکھے

ہاشم اسدؔ بدھ، 3 جون 2026
👁 37 ❤️ 0
ہر طرف ظلم و تباہی کے سمندر دیکھے
پھول سے دل کی جگہ سینوں میں پتھر دیکھے
اور پھر یوں بھی ہوا نفرتیں پروان چڑھیں
نئی نسلوں میں کئی ہم نے ستمگر دیکھے
جن کے ہاتھوں میں تھا بھارت کا مرے مستقبل
ان کے بَسْتوں سے برآمد کئی خنجر دیکھے
کہیں لاشیں کہیں عصمت کا ہوا ہے سودا
ہر نئی صبح سَنے خون میں پیپر دیکھے
غیر کا شکوہ کروں بھی تو کروں کس منہ سے
اپنی پشتوں پہ اسدؔ اپنوں کے نشتر دیکھے
📖 सार

یہ نظم سماجی بدحالی، اخلاقی زوال اور بڑھتی ہوئی بے حسی کی دردناک تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے اردگرد پھیلی ہوئی ظلم و زیادتی، نفرت، خونریزی اور انسانیت کے زوال پر گہرا دکھ اور اضطراب ظاہر کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آج کے معاشرے میں نرم دل انسان بھی سخت دل بنتے جا رہے ہیں اور نئی نسلوں میں تشدد اور بے رحمی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ نظم کا اختتام اس خود احتسابی پر ہوتا ہے کہ شکایت صرف دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے قریبی لوگوں اور معاشرے سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
یہ نظم سماجی ظلم، نفرت، تشدد

← पिछला अगला →

✍️ ہاشم اسدؔ — संक्षिप्त परिचय

ہاشم اسدؔ
📍 لکھیم پور،اتر پردیس،ہندوستان

محمد ہاشم ادریسی، جن کا ادبی و قلمی نام ہاشم اسدؔ لبیدپوری ہے، اردو شعر و ادب کے اُن باصلاحیت تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی فکری سنجیدگی، ادبی ذوق اور تخلیقی شعور کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ کی ولادت 30 جون 1992ء کو گرام لبیدپور، ضلع لکھیم پور کھیری، ریاست اترپردیش (ہندوستان) میں ہوئی۔
ابتدائی زندگی سے ہی مطالعہ، علم دوستی اور ادبی ذوق آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف رہا۔ …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ہاشم اسدؔ की और रचनाएँ
ترے خیال سے بہتر کوئی خیال نہیں ترے وصال سے بہتر کوئی وصال نہیں بہت حسین تھے یوسف یہ ہے بجا لیکن ترے...
ہر طرف ظلم و تباہی کے سمندر دیکھے پھول سے دل کی جگہ سینوں میں پتھر دیکھے اور پھر یوں بھی ہوا نفرتیں ...
اُس کی ہر حال میں ہم سب پہ عطا آتی ہے فعل اچھا ہو تو پھر اُس کی رضا آتی ہے اُس کی مرضی کے بنا کچھ بھ...
جب بھی دیکھے گا مجھے اپنا ہوا دیکھے گا میرے محبوب! سدا مجھ میں وفا دیکھے گا ہم سفر تجھ سا میسر ہو زم...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन