رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے
عشق، خود شناسی اور قومی اتحاد کی ترجمان غزل | ثمامہ اقبال
ثمامہ اقبال کی یہ دل نشیں غزل محبت، ہجر، خود شناسی اور قومی یکجہتی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ شاعر نے عشق کی لطافت، محبوب کی بے نیازی، انسان کی داخلی کشمکش اور معاشرتی انتشار کو نہایت مؤثر اور فکری انداز میں بیان کیا ہے۔
یہ غزل رومانویت اور فکری شعور کا حسین امتزاج ہے۔ ثمامہ اقبال نے محبوب کے فراق، دل کی بے قراری، انسانی خود آگہی اور اجتماعی اتحاد کی ضرورت کو اپنے منفرد اسلوب میں پیش کیا ہے۔ غزل کے اشعار عشق کی نزاکتوں کے ساتھ سات
✍️ ثمامہ اقبال — संक्षिप्त परिचय
ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!