اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے

ثمامہ اقبال پیر، 1 جون 2026
👁 38 ❤️ 0
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے
اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے
سوکھ جائیں گے مری شوخ تمنا کے گلاب
"تیرے ملنے سے اگر تیری کمی کم ہو جائے"
تجھ کو معلوم نہیں جانِ ادا تیرے بنا
خُشک رو رو کے مرا دیدۂ پُر نم ہو جائے
کوئی دیکھے تو سہی حُسنِ تغافُل اُس کا
میں اُسے پیار کروں اور وہ برہم ہو جائے
ایک مرکز پہ نہیں رہتے مری قوم کے لوگ
کاش یہ میرا قبیلہ بھی مُنظّم ہو جائے
عارض و لب پہ لکھوں حُسن پہ تنقید کروں
گھر کے اَخبار میں ایسا کوئی کالَم ہو جائے
اپنی ہی ذات کا عِرفان ہے مشکل اقبالؔ
روح سے جسم کا اک روز تو سنگم ہو جائے
📖 Summary

عشق، خود شناسی اور قومی اتحاد کی ترجمان غزل | ثمامہ اقبال

ثمامہ اقبال کی یہ دل نشیں غزل محبت، ہجر، خود شناسی اور قومی یکجہتی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ شاعر نے عشق کی لطافت، محبوب کی بے نیازی، انسان کی داخلی کشمکش اور معاشرتی انتشار کو نہایت مؤثر اور فکری انداز میں بیان کیا ہے۔
یہ غزل رومانویت اور فکری شعور کا حسین امتزاج ہے۔ ثمامہ اقبال نے محبوب کے فراق، دل کی بے قراری، انسانی خود آگہی اور اجتماعی اتحاد کی ضرورت کو اپنے منفرد اسلوب میں پیش کیا ہے۔ غزل کے اشعار عشق کی نزاکتوں کے ساتھ سات

← Previous Next →

✍️ ثمامہ اقبال — Short Introduction

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by ثمامہ اقبال
مرا یہ جسم تو خالی گلاس ہے گویا کہ میرا دل تو حسینوں کے پاس ہے گویا مری شَبیہ نمایاں ہے میرے شعروں س...
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے "زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے" ہماری آنکھ سے ...
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے سوکھ جائیں گے مری شوخ تمنا ک...
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُٹھے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online