اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
نظم

عید

ع
عبداللہ راشد ذبیحؔ بدھ، 27 مئی 2026
👁 123 ❤️ 1
دلوں کے زنگ سب مل کر ہٹا دو، عید کا ہے دن
دعاؤں سے فضاؤں کو سجا دو، عید کا ہے دن
محبت کا سبق سب کو سنا دو، عید کا ہے دن
عداوت کے نشاں دل سے مٹا دو، عید کا ہے دن
پرانے رنج و غم شکوے گلے اب بھول کر سارے
گلے لگ کر خوشی اپنی بڑھا دو، عید کا ہے دن
اگر کوئی خفا ہے تم سے اس کو خود منا لینا
وفا کا ہاتھ اب آگے بڑھا دو، عید کا ہے دن
جہاں میں امن ہو، الفت ہو، بھائی چارہ قائم ہو
یہی پیغام سب کو تم سنا دو، عید کا ہے دن
ذبیحؔ اب ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں عام کر ڈالو
غموں کو مسکراہٹ میں چھپا دو، عید کا ہے دن
📖 Summary

یہ خوبصورت عیدیہ کلام عبداللہ راشد ذبیح کا ہے جس میں محبت، بھائی چارے اور معافی کا پیغام دیا گیا ہے۔ شاعر دلوں کی کدورتیں مٹانے، رنج و غم بھلانے اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر خوشیاں بانٹنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ عید صرف خوشی کا دن نہیں بلکہ دلوں کو صاف کرنے، نفرت کو ختم کرنے اور امن و الفت کو فروغ دینے کا بہترین موقع ہے۔ شاعر لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ خفا لوگوں کو منا کر، وفا اور محبت کا ہاتھ بڑھائیں اور معاشرے میں خوشیوں کو عام کریں۔

← Previous Next →
More by عبداللہ راشد ذبیحؔ
ہم نے ہنس کر اسے گزارا ہے تیرا غم بھی تو اک سہارا ہے کوئی شکوہ نہیں زمانے سے جو ملا ہے وہی گوارا ہے ...
کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں جو جلائیں شوق کی شمعیں رواں میں دل خیالِ یار سے مہکے ہمیشہ جیسے خوشبو...
سینوں میں قرآن ہونا چاہیے ”آدمی انسان ہونا چاہیے“ غیر سے بھی جب ملے ہنس کے ملے ایسا ہر انسان ہونا چا...
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ تھا وہ ہر لمہ خوشیوں کا اک خزانہ وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنانا بڑے فخر سے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online