ایسے بکھری دوات کاغذ پر
یہ خوبصورت کلام عمران طالب کی فکری اور جذباتی گہرائی کا آئینہ دار ہے، جس میں شاعر نے “کاغذ” کو محض تحریر کا وسیلہ نہیں بلکہ اپنی پوری کائنات بنا دیا ہے۔ ہر شعر میں قلم، دوات اور کاغذ کے استعارے کے ذریعے محبت، یاد، احساس اور تخلیقی واردات کو سمیٹا گیا ہے۔
شاعر محبوب کی یاد کو اس طرح کاغذ پر اتارتا ہے کہ اس کی آنکھیں، لمس، خواہشات اور دھڑکنیں سب لفظوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ وقت کی کشمکش، دن رات کی بے چینی اور دل کی نامکمل باتیں بھی اسی کاغذ پر مکمل ہونے کی خواہش رکھتی ہیں۔ یہ کلام اس بات کی عکاسی کر
✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — संक्षिप्त परिचय
عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!