نوحہ
شہادتِ سفیرِ امام حسینؑ
ہاشم حسین انور حسین
اتوار، 24 مئی 2026
👁 94
❤️ 1
مسلمِؑ دل فگار کوفہ میں
ہوگئے اشک بار کوفہ میں
خوں سے لتھ پتھ ملی زمانے کو
رحمتِ کردگار کوفہ میں
کہہ رہا تھا حسینؑ زندہ باد
اک غریب الدیار کوفہ میں
پھر رہے تھے یتیم مسلمؑ کے
ہونے دیں پر نثار کوفہ میں
لاش مسلمؑ کی دیکھ کر روئے
سارے نیزہ سوار کوفہ میں
سر تا پا سرخ ہے اخئ حسینؑ
ہے فضا سوگوار کوفہ میں
الحفیظ الاماں کی آئی صدا
جب چلی ذوالفقار کوفہ میں
سب عزادار جا کے اے ہاشمؔ
روتے ہیں زار زار کوفہ میں
📖 Summary
یہ منقبت حضرت مسلم بن عقیل کی مظلومیت، قربانی اور واقعۂ کوفہ کے المناک حالات کو نہایت دردناک انداز میں بیان کرتی ہے۔ شاعر نے کوفہ کی فضا کو غم، بے وفائی اور ظلم کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔
اس کلام میں دکھایا گیا ہے کہ حضرت مسلمؑ، جو امام حسینؑ کے نمائندہ بن کر کوفہ آئے تھے، کس طرح تنہائی اور بے یاری کا شکار ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد یتیموں کی حالت، نیزہ سواروں کا پچھتاوا، اور شہر کی سوگوار فضا—یہ سب منقبت میں نہایت مؤثر انداز میں بیان ہوئے ہیں۔
شاعر نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حق و باطل کی اس ج
#منقبت
#حضرت مسلم بن عقیلؑ
#امام حسینؑ
#کوفہ
#کربلا
#اہلِ بیتؑ
#اسلامی شاعری
#اردو منقبت
#شہادت مسلمؑ
#کربلا کا واقعہ
#عزاداری
#مرثیہ نما شاعری
#ہاشم انور ہاشم
#اردو ادب
#دینی شاعری
#نوحہ
#grief poetry Urdu
#Karbala poetry
#Islamic elegy Urdu
#Muslim ibn Aqeel poetry
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...




No comments yet — be the first!