اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

خون سے بنتے مکانوں کی کہانی لکھو

ہاشم حسین انور حسین اتوار، 24 مئی 2026
👁 50 ❤️ 2
خون سے بنتے مکانوں کی کہانی لکھو
کبھی مزدور کے شانوں کی کہانی لکھو
تم لڑکپن پہ زرا دیر توقّف کرنا
جب بھی گمراہ جوانوں کی کہانی لکھو
دیکھ کر اردو زباں کو یہ مچلنا کیسا
تم بھی کچھ اپنی زبانوں کی کہانی لکھّو
کیوں نہ مارے یہ مسلمان، مسلمانوں کو
*اور*بکھرے ہوئے خانوں کی کہانی لکھو
پہلے غیبت سی بلا کا کوئی سدباب کرو
یوں نہ دیواروں کے کانوں کی کہانی لکھو
نیک اعمال و عباداتِ خداوندی سے
"تنگ و تاریک مکانوں کی کہانی لکھو"
ہاشمؔ انور مرے کردار سے منسوب ہیں جو
آؤ ان جھوٹے فسانوں کی کہانی لکھو
📖 Summary

یہ غزل معاشرتی مسائل، اخلاقی زوال اور انسانی رویّوں پر گہری فکری اور تنقیدی نظر پیش کرتی ہے۔ شاعر مختلف پہلوؤں سے معاشرے کی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے، خصوصاً مزدور طبقے کی محنت، نوجوانوں کی گمراہی، اور باہمی انتشار جیسے موضوعات کو مرکز بناتا ہے۔
غزل میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان اپنی زبان، کردار اور عمل پر غور کرے، کیونکہ غیبت، جھوٹ اور غلط بیانی معاشرتی بگاڑ کو بڑھاتے ہیں۔ شاعر دیواروں کے کان اور جھوٹی کہانیوں جیسے استعاروں کے ذریعے یہ بتاتا ہے کہ معاشرہ خود اپنے اعمال کا گواہ ہے۔
آخر می

← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online