اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
نظم

آسمانوں کی سیر کرتا ہے

خضر احمد خان شررؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 36 ❤️ 0
آسمانوں کی سیر کرتا ہے
تیری آغوش میں ترا شاعر
کل جہانوں کی سیر کرتا ہے
من ہی من میں مہک رہی ہو گی
مجھ کو احساس ہے کہ اب تم بھی
راہ کھڑکی سے تک رہی ہوگی
روز کروٹ بدل رہا ہوگا
بوڑھے برگد کی نرم چھاؤں میں
چاند کا نور ڈھل رہا ہوگا
پھیر نہ رخ ادھر نظر کرکے
میں تری دسترس میں ہوں جب تک
چاہ لے مجھ کو خوب جی بھر کے
زندگی بے الم محال مجھے
پھر گرفتار کر اسیری میں
لذت ِ غم نہ نکال مجھے
اٹھتی سانسیں تھما کے دیکھ لیا
اس نے کھڑکی سے جھانک کر مجھ کو
سب سے نظریں بچا کے دیکھ لیا
📖 Summary

یہ خوبصورت نظم خضر احمد خان شر کی ایک نہایت لطیف، رومانوی اور احساساتی کیفیت کی عکاس ہے، جس میں محبت، قربت اور تخیّل کی دنیا کو بڑے نازک انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
شاعر اپنے آپ کو محبوب کی آغوش میں محسوس کرتا ہے، گویا وہ حقیقت اور خواب کے درمیان ایک ایسی کیفیت میں ہے جہاں وہ اس کی قربت سے کائنات کی وسعتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ محبوب کی یاد، اس کی موجودگی کا احساس، اور اس کے انتظار کی جھلک کھڑکی، چاندنی اور خاموش لمحوں کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔
نظم میں ایک دلکش منظر نگاری بھی ہے—بوڑھے برگد کی چھاؤں، چ

← Previous Next →

✍️ خضر احمد خان شررؔ — Short Introduction

خضر احمد خان شررؔ
📍 پربھنی، مہاراشٹر، ہندوستان

خضر احمد خان شررؔ عصرِ حاضر کے اُن سنجیدہ اور باوقار شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا ہے۔ آپ کا اصل نام خضر احمد خان جبکہ قلمی نام شررؔ ہے۔ آپ 9 فروری 1970ء کو پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم کے طور پر ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
ادب سے شغف نے آپ کو شعر و سخن کی دنیا کی طرف متوجہ کیا اور سن 2000ء میں باقاعدہ طور پر طبع آزمائی کا آغاز …

Read more ←
نظم What is it?

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

More by خضر احمد خان شررؔ
مر گئے ہم سبو سبو کر کے اس سے ملنے کی آرزو کر کے جا چکا ہے وہ گفتگو کر کے چاک سینے کے سب رفو کرکے اس...
ہنستے ہنستے رلا دیا مجھ کو اس نے پاگل بنا دیا مجھ کو منزل ِ شاد کا پتا دیکر راستہ بھی بتا دیا مجھ کو...
کتابوں سے جی ہم لگانے لگے ہیں نئے لفظ کاغذ پہ آنے لگے ہیں ندی کے کنارے بتانے لگے ہیں پرندے کہیں اور ...
مبارک تمھیں زندگی کے اجالے چلے , ہم نہیں لوٹ کر آنے والے مرے لب سے چھینے ہیں جِس نے نوالے حوالے خدا ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online