اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے

شاہد وصیؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 49 ❤️ 3
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے
جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے
عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ پہ ہو
جھوٹی گواہیوں سے مُکر جانا چاہئے
سودا کرے جو اپنے وطن کی زمین کا
ایسے وطن فروش کو مر جانا چاہئے
تپتے سُراب اُڑتے بگولے ہیں راہ میں
مضبوط کرکے عزمِ سفر جانا چاہئے
دل پھینک عاشقوں کا ہے میلہ لگا ہوا
اُس بے حیاء کو چھت سے اُتر جانا چاہئے
موجوں میں اِضطراب اگر چاہتے ہیں آپ
"گہرے سمندروں میں اُتر جانا چاہئے"
دنیا کسی لحاظ سے اچھی نہیں وصی
چُپکے سے اِس گلی سے گزر جانا چاہئے
📖 Summary

یہ فکر انگیز اور جرات مندانہ غزل شاہد وصی کے انقلابی شعور اور اخلاقی جرات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے زندگی کے مختلف پہلوؤں—سچ، انصاف، وطن سے محبت اور ذاتی کردار—پر نہایت واضح اور بے باک انداز میں روشنی ڈالی ہے۔

ابتدائی اشعار میں انسان کی بے سمتی اور فیصلوں کی الجھن کو بیان کرتے ہوئے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ حالات کے مطابق درست سمت اختیار کرنا ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ جھوٹی گواہی اور بے گناہوں پر الزام کو سختی سے رد کیا گیا ہے۔

درمیانی اشعار میں وطن فروشی

← Previous Next →

✍️ شاہد وصیؔ — Short Introduction

شاہد وصیؔ
📍 مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش ، ہندوستان

محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by شاہد وصیؔ
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے نگاہِ ناز نے ایسا اثر کیا دل ...
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ پہ ہ...
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں تم سے ملے تو زیست کے نقشے بد...
نغمہِ بربطِ نوا چپ ہے عکس بےزار آئینہ چپ ہے شوخئِ حرفِ ماجرا چپ ہے لفظ خاموش مدعا چپ ہے رہ گزر ہے کہ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online