مرگئے ہم سبو سبو کرکے
یہ اثر انگیز اور جذبوں سے بھرپور غزل خضر احمد خان شرر کے منفرد اسلوب اور شدتِ احساس کی عمدہ مثال ہے۔ شاعر نے محبت، درد اور روحانیت کو نہایت گہرے اور علامتی انداز میں بیان کیا ہے۔
ابتدائی اشعار میں محبت کی بے بسی اور آرزو کی شدت دکھائی دیتی ہے، جہاں ملاقات کی خواہش ہی انسان کو فنا کے قریب لے آتی ہے۔ محبوب کی جدائی ایک ایسا زخم بن جاتی ہے جسے بھرنے کی کوشش بھی ادھوری رہتی ہے۔
درمیانی اشعار میں عشق کی وہ کیفیت نمایاں ہے جہاں “آپ سے تم” کا سفر قربت اور دل میں جگہ بنانے کی علامت ہے۔ اسی طرح ارد
✍️ خضر احمد خان شررؔ — संक्षिप्त परिचय
خضر احمد خان شررؔ عصرِ حاضر کے اُن سنجیدہ اور باوقار شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا ہے۔ آپ کا اصل نام خضر احمد خان جبکہ قلمی نام شررؔ ہے۔ آپ 9 فروری 1970ء کو پیدا ہوئے اور اعلیٰ تعلیم کے طور پر ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
ادب سے شغف نے آپ کو شعر و سخن کی دنیا کی طرف متوجہ کیا اور سن 2000ء میں باقاعدہ طور پر طبع آزمائی کا آغاز …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!