غزل
ہر کوئی شخص ضرورت سے سوا مانگے گا
منتظم عاصیؔ
پیر، 20 اپریل 2026
👁 33
❤️ 0
جس کی فطرت میں ہے مکاری وہ کیا مانگے گا
جان مانگے گا یا وہ ہم سے وفا مانگے گا
اپنے ہم سائے کی تکلیف پہ ہنسنے والا
رات کو اٹھ کے تہجد میں دعا مانگے گا
کھول کے دیکھے کوئی اپنی سخاوت کا کواڑ
ہر کوئی شخص ضرورت سے سوا مانگے گا
تیرے کوچے میں گزارے گا جو شب جانِ غزل
دیکھنا صبح کے ہوتے ہی قضا مانگے گا
دشت صحرا کی اذیت کو سمجھنے والا
شہر میں آ کے ترے پھر سے سزا مانگے گا
جب بھی آئے گا زمانہ تری مرقد پہ جنوں
مان کر مَنَّتیں اندازِ وفا مانگے گا
جس نے تہذیب و تمدن کا گلا گھونٹ دیا
ہم سے وہ ہند کی الفت کا صلہ مانگے گا
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان
## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
منتظم عاصیؔ کی مزید
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...




ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!