غزل
سرخ قدموں سے راستہ ہو جائے
मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी
پیر، 20 اپریل 2026
👁 28
❤️ 0
کاش صحرا کا حق ادا ہو جائے
سرخ قدموں سے راستہ ہو جائے
شب میں مانگی جو اٹھ کے اپنے لئے
میرے حق میں وہی دعا ہو جائے
آج بن سیف رن میں چلتے ہیں
دشمنوں کا بھی کچھ بھلا ہو جائے
دل سے دل کا تو کھیل کھیل لیا
تیغ و سر کا بھی کھیل، آ ہو جائے
دور ہوجائے گی غلط فہمی
دل ہمارا جو آئینہ ہو جائے
سر اٹھایا ہے تیری یادوں نے
پھر ہمارا نہ سامنا ہو جائے
خشک ہونے کو ہیں یہ زخمِ وفا
حادثہ پھر سے رونما ہو جائے
✍️ मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी — संक्षिप्त परिचय
📍 मालेगाँव, महाराष्ट्र, भारत
### मुंतज़िम आसी — एक तफ़सीली अदबी तआरुफ़
मुंतज़िम आसी उर्दू अदब की दुनिया में एक ऐसे शख़्स के तौर पर सामने आते हैं जिनकी अदबी ज़िंदगी में शायरी, रूहानियत, मुतालआ, इल्म-ए-अरूज़ और अदबी ख़िदमत एक-दूसरे से जुड़ी हुई नज़र आती हैं। उनकी शख़्सियत का सबसे अहम पहलू यह है कि उन्होंने शायरी को महज़ शौक़ नहीं बल्कि एक लगातार जारी रहने वाले जुनून और ज़िम्मेदारी के तौर पर अपनाया।
उनका अदबी सफ़र किसी एक दिन …
غزل क्या है?
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
मोहम्मद मुनतज़िम मोहम्मद शाबान अनसारी की और रचनाएँ
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!