رسمِ مغرب کو نگہبان نہیں کر سکتے
یہ فکر انگیز اور باوقار غزل عمران طالب کی ایک مضبوط نظریاتی اور جذباتی تخلیق ہے جس میں مشرقی تہذیب، محبت، وفا اور انسانی اقدار کا خوبصورت دفاع کیا گیا ہے۔ شاعر مغربی رسم و رواج کی اندھی تقلید کو اپنی تہذیب کے لیے نقصان دہ قرار دیتا ہے اور اپنی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔ غزل میں عشق اور جنون کی شدت بھی نمایاں ہے جہاں شاعر محبوب کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار دکھائی دیتا ہے، مگر انسانیت اور محبت کے اصولوں سے دستبردار ہونے کو قبول نہیں کرتا۔ بعض اشعار میں جذبات، خونِ جگر اور دردِ
✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — संक्षिप्त परिचय
عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!