اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا

انصاری عمران احمد عبداللہ جمعہ، 22 مئی 2026
👁 47 ❤️ 0
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا
آخری راستہ یہی ہے کیا
ہجر یادیں ملال تنہائی
کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا
میری میت میں چشم تر آۓ
وصل کا قافلہ یہی ہے کیا
جس کی خوشبو سے دل معطّر ہے
گیسوئے مشکِ وا یہی ہے کیا
سب کی آنکھوں میں ہے سوال یہی
نام ور دل جلا یہی ہے کیا
اس کا مطلب لغت میں عشق کے ہے
خوبصورت بلا یہی ہے کیا
بسترِ مرگ پر ہے آہ بکا
تیرے دل کی صدا یہی ہے کیا
لاش بے یار و بے کفن ہے پڑھی
کشتی کا ناخدا یہی ہے کیا
خاک مرقد پہ ڈالنے والے
درد دل کی دوا یہی ہے کیا
آئی ہے جو ترا بدن چھوکر
خلد جیسی ہوا یہی ہے کیا
خوں سے تر گل ترے شبستاں میں
خواہشوں سے کھلا یہی ہے کیا
تیر دل میں لگا ہے جو میرے
تیرا کھویا ہوا یہی ہے کیا
سر تا پا ہجر کی ہے زنجیریں
لب پہ جاری دعا یہی ہے کیا
آبلے پا کے پھوڑ کر چلنا
ہم جنوں کی سزا یہی ہے کیا
دل دھڑکتا رہے درونِ لحد
اجر دیدار کا یہی ہے کیا
وہ کناروں پہ بٹ گیا طالب
عشق کا فاصلہ یہی کیا
📖 सार

یہ غم، ہجر اور عشق کی شدت سے بھرپور غزل عمران طالب کی نہایت اثر انگیز اور فکری شاعری کا خوبصورت نمونہ ہے۔ شاعر نے اس غزل میں محبت کے درد، جدائی کی اذیت، تنہائی اور دل کی بے بسی کو انتہائی سوز و گداز کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ہر شعر میں سوالیہ انداز اختیار کرکے محبوب کی بے رخی، وفا کے انجام اور عشق کے کرب کو نمایاں کیا گیا ہے۔ غزل میں ہجر، قبر، مرگ، آبلے، زنجیریں اور تیر جیسے استعارے درد کی شدت کو مزید گہرا بنا دیتے ہیں۔ شاعر عشق کو ایک ایسی “خوبصورت بلا” قرار دیتا ہے جو انسان کو مکمل طور پر اپنے حصار

← पिछला अगला →

✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — संक्षिप्त परिचय

انصاری عمران احمد عبداللہ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …

और पढ़ें ←
غزل क्या है?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

انصاری عمران احمد عبداللہ की और रचनाएँ
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واسطے تجھ...
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واسطے تجھ...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا میری می...
تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں میری ہو جاتی ہے کسر آنکھیں راہ تکتی ہے میری تر آنکھیں موندھ لیتا ہے جب قمر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन