اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
نظم

بچپن

ع
عبداللہ راشد ذبیحؔ جمعرات، 21 مئی 2026
👁 44 ❤️ 0
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
تھا وہ ہر لمہ خوشیوں کا اک خزانہ
وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنانا
بڑے فخر سے دوسروں کو سکھانا
وہ گھر سے سبق یاد کر کے نہ جانا
وہ اسکول میں مار ٹیچر کی کھانا
وہ گرمی کی چھٹی کا اعلان ہونا
وہ گرمی کی چھٹی مزے سے منانا
وہ کاغذ کے ٹکڑوں پہ چور اور سپاہی
پتنگوں کو اونچائی تک کو اُڑھانا
وہ لٹو گھمانے کا فن سیکھنا تھا
وہ مل کے شرارت وہ یاروں سے کرنا
تھی خواہش بڑے جلد ہونے کی ہم کو
ابھی آتی ہے یاد بچپن کی ہم کو
← Previous Next →
More by عبداللہ راشد ذبیحؔ
ہم نے ہنس کر اسے گزارا ہے تیرا غم بھی تو اک سہارا ہے کوئی شکوہ نہیں زمانے سے جو ملا ہے وہی گوارا ہے ...
کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں جو جلائیں شوق کی شمعیں رواں میں دل خیالِ یار سے مہکے ہمیشہ جیسے خوشبو...
سینوں میں قرآن ہونا چاہیے ”آدمی انسان ہونا چاہیے“ غیر سے بھی جب ملے ہنس کے ملے ایسا ہر انسان ہونا چا...
جس کی اردو زبان ہوتی ہے اس کی باتوں میں جان ہوتی ہے میری نظموں کی شان ہے اردو سب زبانوں کی جان ہے ار...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online