اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں

ع
عبداللہ راشد ذبیحؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 53 ❤️ 2
کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں
جو جلائیں شوق کی شمعیں رواں میں
دل خیالِ یار سے مہکے ہمیشہ
جیسے خوشبو گھل رہی ہو گُلْستاں میں
کیا خبر کس بات پر جھگڑا ہو جائے
نفرتیں بکھری ہوئی ہیں اب جہاں میں
رکھ عقابوں سا جگر اے نو جواں تو
پھر نظر آئے گی منزل آسماں میں
مٹ کے بھی باقی رہے شہرت ہماری
ہر صدا گونجے ہماری داستاں میں
ذکر مولٰی ہو ذبیحؔ تیری زباں پر
رحمتیں برسیں گی تیرے آشیاں میں
📖 Summary

یہ خوبصورت اور حوصلہ افزا کلام عبداللہ راشد ذبیح کی مثبت فکر، روحانی جذبے اور اخلاقی پیغام کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاعر نے کامیابی، امید، محبت اور خدا کی یاد کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اشعار میں نوجوانوں کو بلند حوصلہ رکھنے، عقاب جیسا جگر پیدا کرنے اور زندگی میں مسلسل جدوجہد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ساتھ ہی موجودہ دور کی نفرتوں اور اختلافات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ شاعر کے نزدیک اصل کامیابی وہی ہے جو محبت، نیک اعمال اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے حاصل ہو۔ آخری شعر میں اللہ کے ذکر کو رحم

← Previous Next →
More by عبداللہ راشد ذبیحؔ
ہم نے ہنس کر اسے گزارا ہے تیرا غم بھی تو اک سہارا ہے کوئی شکوہ نہیں زمانے سے جو ملا ہے وہی گوارا ہے ...
سینوں میں قرآن ہونا چاہیے ”آدمی انسان ہونا چاہیے“ غیر سے بھی جب ملے ہنس کے ملے ایسا ہر انسان ہونا چا...
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ تھا وہ ہر لمہ خوشیوں کا اک خزانہ وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنانا بڑے فخر سے...
جس کی اردو زبان ہوتی ہے اس کی باتوں میں جان ہوتی ہے میری نظموں کی شان ہے اردو سب زبانوں کی جان ہے ار...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online