اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
غزل

الفت وفا خلوص کا اچھا صلہ دیا

عبدالدیان اسدؔ پیر، 18 مئی 2026
👁 47 ❤️ 1
الفت وفا خلوص کا اچھا صلہ دیا
اہلِ خرد کو آپ نے جلوہ دکھا دیا
زخمی دیارِ یار سے آئی شبِ وصال
اہلِ جنوں نے عشق کا مرہم لگا دیا
زندانِ خواہشات کی دہلیز لانگھ کر
"کس نے مجھے چراغ بنا کر بجھا دیا "
ایسا کمال کر گئیں خواجہ کی جوتیاں
ساحر کو ایک پل میں ہی رب سے ملا دیا
زخموں کو نوچنے کی یہاں رسم چل پڑی
کس نے جہانِ ہجر کو ہٹلر بنا دیا
میں تیرگی میں جل کے منور ہوا مگر
دنیا نے لا کے قبر میں زندہ سلا دیا
بس چادرِ فراق اسد خود پہ ڈال کر
تاریکیاں حیات کی میں نے مٹا دیا
📖 सार

یہ درد، تصوف، عشق اور فکری کرب سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی گہری شعری بصیرت اور اثر انگیز اسلوب کا خوبصورت نمونہ ہے۔ شاعر نے عشق، ہجر، روحانی وابستگی اور انسانی بے حسی کو نہایت مؤثر استعاروں میں پیش کیا ہے۔ “زندانِ خواہشات”، “چراغ”، “تیرگی” اور “چادرِ فراق” جیسے پیکر غزل کو فکری گہرائی عطا کرتے ہیں۔ ایک شعر میں خواجہ کی جوتیوں کے وسیلے سے روحانی فیض اور تصوف کی تاثیر کو بیان کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے اشعار میں معاشرے کی بے رحمی، زخموں کو کریدنے کی عادت اور انسان کے داخلی اندھیروں کا ذکر نمایاں ہے

← पिछला अगला →
عبدالدیان اسدؔ की और रचनाएँ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन