اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

یہ اشک بہتے ہیں، بہنے دو، اور بہہ جائیں

علیم طاہرؔ اتوار، 17 مئی 2026
👁 92 ❤️ 3
یہ اشک بہتے ہیں، بہنے دو، اور بہہ جائیں
ستم ہزار کرو ہنس کے ہم تو سہہ جائیں
مہیا آج ہوئے ہو جو بعد مدت کے
ملا ہے موقع تو ہم دل کی بات کہہ جائیں
محبتوں میں تقابل سے باز آؤ تم
ہمارے خواب گھروندے نہ پل میں ڈھہ جائیں
دباؤ ان پر ذرا سا بھی ہم نہ ڈالیں گے
وہ تنہا رہتے ہیں، مرضی ہے ان کی رہ جائیں
ندی چڑھی ہے ابھی، احتیاط لازم ہے
بہاؤ تیز ہے، سنبھلو کہیں نہ بہہ جائیں
یہ نرم مخملی بستر بدن سے دور رکھو
تمہارے خواب کہیں نیند میں نہ رہ جائیں
ہم ایسے خواب نہیں چاہتے کبھی طاہر
جو خواب سارے کنارے پہ آ کے بہہ جائیں
📖 Summary

یہ نرم احساسات، محبت اور زندگی کے تجربات سے بھرپور غزل علیم طاہر کی حساس طبیعت اور فکری پختگی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے محبت، جدائی، صبر اور انسانی جذبات کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش کیا ہے۔ غزل میں اشک، خواب، ندی اور بہاؤ جیسے استعارے زندگی کی ناپائیداری، جذباتی کشمکش اور تعلقات کی نزاکت کو نمایاں کرتے ہیں۔ شاعر محبت میں موازنہ اور دباؤ کے بجائے خلوص، آزادی اور احساس کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ “ندی چڑھی ہے ابھی، احتیاط لازم ہے” جیسے اشعار زندگی کے حالات اور جذباتی طغیانی کی علامتی

← Previous Next →
More by علیم طاہرؔ
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے کیسے...
تھلاپتی وجے: فلمی دنیا سے عوامی قیادت تک ایک غیر معمولی سفر __________ سپر اسٹار سے سیاسی رہنما تک —...
مصنف: علیم طاہر --- فہرستِ مضامین: 1. پیش لفظ 2. افسانچہ کیا ہے؟ (تعریف و اہمیت) 3. افسانچے کی ابتدا...
"عورت کچے کان کی" معروف ادیب علیم طاہرؔ کی ایک فکر انگیز تحریر ہے جو معاشرے میں عورت کے کر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online