اشتہار
اشتہار
اشتہار
यह साइट जनाब अकबर शेख़ साहब
अकबर शेख़
के सम्मान में बनाई गई है
📖 उनके बारे में
مرثیہ

بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج

عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 49 ❤️ 3
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج
بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج
احباب رشتے دار ہیں ہمسائے دیکھئے
آنکھوں میں اشک چہرے سے ظاہر غمی ہے آج
ان کے ہر اک گناہ کو مولا تو بخش دے
صدقے میں اہلِ بیت کے بندہ لبی ہے آج
ان کی محبتوں کے ہی چرچے ہیں چار سو
یادوں سے ان کی بے بسی ہر سو بسی ہے آج
بے چین بیٹے بیٹیاں بے چین ہے مکاں
ماں سے جدائی کی بڑی مشکل گھڑی ہے آج
دیوار و در ستون بھی پوچھیں یہ بار بار
معراج بی کو ڈھونڈتی نظریں سبھی ہے آج
ایسا اسد نے لکھّا ہے اک ماں کا مرثیہ
کاغذ قلم بھی روتے ہیں نم زندگی ہے آج
📖 सार

یہ درد، جدائی اور ماں کی یاد سے لبریز مرثیہ عبدالدیان اسد کی جذباتی شدت اور خاندانی وابستگی کا نہایت اثرانگیز اظہار ہے۔ شاعر نے “معراج بی” کی یاد کو مرکز بنا کر ایک ایسے گھر کا منظر پیش کیا ہے جہاں ہر فرد غم، بے چینی اور اشکوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ بیٹوں اور بیٹیوں کی نم آنکھیں، خاموش دیواریں اور سوال کرتی فضائیں اس مرثیے کو ایک زندہ منظرنامہ بنا دیتی ہیں۔ ماں کی جدائی کو یہاں صرف ایک فرد کی کمی نہیں بلکہ پورے گھر کی ویرانی اور جذباتی ٹوٹ پھوٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ “دیوار و در ستون بھی پوچھیں” جی

← पिछला अगला →
عبدالدیان اسدؔ की और रचनाएँ
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 टिप्पणियाँ (0)
टिप्पणी करने के लिए लॉग इन करें

अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!

साहित्यिक AI सहायक
● ऑनलाइन