اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

سہمی سہمی ہوئی نڈھال ہوا

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 36 ❤️ 3
سہمی سہمی ہوئی نڈھال ہوا
کر رہی ہے کوئی سوال ہوا
تیرے اپنے ہیں کچھ کمال ہوا
جن کی ملتی نہیں مثال ہوا
اپنے سر پہ اُٹھائے بادل کو
کرتی رہتی ہے انتقال ہوا
ہے ارادہ تباہ کرنے کا
سننے آئی نہ سر نہ تال ہوا
تیرے کوچے سے آرہی ہے مجھے
مشک عنبر سی بے مثال ہوا
کیوں چراغوں کو ہوگا خوف کوئی
رکھ رہی ہے جو خود خیال ہوا
چھت اُڑا کر غریب ہاشمؔ کی
اپنا غصہ نہ یوں نکال ہوا
← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online