اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

اشعار کی پہن کے قبا سی گروپ میں

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 37 ❤️ 2
اشعار کی پہن کے قبا سی گروپ میں
ہو محوِ رقصاں لفظوں کی داسی گروپ میں
اب تک کے دال رکھی ہے باسی گروپ میں
تم کیا گئے کے چھائی اداسی گروپ میں
اس کا نہیں علاج کوئی، حاذقِ زماں
قبضہ کیے ہوئے ہے جو کھانسی گروپ میں
بکھرے پڑے ہوئے ہیں کئی قافیہ ردیف
آکر کے دیکھ لیتے ذرا سی گروپ میں
ویران کر کے بزمِ ادب کیا گئے جناب
جانے لگے ہیں لوگ سیاسی گروپ میں
شعراء کے ساتھ ساتھ اب اشعار میں جناب
پیدا ہو پھر سے رنگِ لباسی گروپ میں
ہر اک سخن طراز کو ہے اس کا انتظار
ہاشمؔ تھی جس کی داد، دُعاسی گروپ میں
← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online