اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

گر خاک کا پیکر ہے بکھر کیوں نہیں جاتا

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 15 مئی 2026
👁 92 ❤️ 3
گر خاک کا پیکر ہے بکھر کیوں نہیں جاتا
دریا سا سمندر میں اتر کیوں نہیں جاتا
اعمال میں گر تیرے بسی تشنہ لبی ہے
تَو نفس کے صحرا سے گزر کیوں نہیں جاتا
ہر نفس کے حصے میں اگر موت رکھی ہے
مر جائے' گا اس خوف سے مر، کیوں نہیں جاتا
وہ تجھ کو ستاتے ہیں تو غمگین ہے کیوں کر
تو صبر کے دریا میں اتر کیوں نہیں جاتا
کس بات پر اپنوں سے بنا رکھی ہے دوری
تُو، صبح کا بھولا ہے تَو گھر کیوں نہیں جاتا
کچھ ساتھ میں رہ کر بھی اتر جاتے ہیں دل سے
"جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا“
ہاشمؔ وہ بھٹکتا ہے کیوں اوروں کی ڈگر پر
رب پوچھ رہا ہے تو اُدھر کیوں نہیں جاتا
← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online