اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں

ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 8 مئی 2026
👁 67 ❤️ 4
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر کی بجھانی پیاس ہوتی ہے
وہ جن کے بخت میں سوکھے ہوئے تالاب ہوتے ہیں
بتائیں گے وہی کس کس نے خون اپنا پلایا ہے
خزاں کے پُرحزیں موسم میں جو شاداب ہوتے ہیں
یہ تہذیبوں تمدّن کی نشانی ہے یہ عیاری
جہاں پر، پر، نہیں ملتے وہیں سرخاب ہوتے ہیں
یہ مالیگاؤں زندہ دل ادیبوں کا ہے گہوارہ
یہاں شہرِ خموشاں کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں
اسی نے دی ہے دستک آج دروازے پہ اس دل کے
وہ جس کے واسطے ہاشم چمن بیتاب ہوتے ہیں
← Previous Next →
More by ہاشم حسین انور حسین
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ یکسر...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کروں ک...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ہے مرث...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر کی ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online