غزل
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا
انصاری عمران احمد عبداللہ
جمعرات، 30 اپریل 2026
👁 93
❤️ 3
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا
خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا
وقارِ عشق بچانے کے واسطے تجھ کو
خموشی توڑ کے محفل میں بولنا ہوگا
مجھے پتہ ہے کہ دہلیزِ شاد مانی پر
غمِ حیات کا نقشہ بھی کھینچنا ہوگا
ادب خلوصِ وفا زیست کی کسوٹی بھی
"بڑوں کی بزم سے چھوٹوں کو سیکھنا ہوگا"
دیارِ عشق پہ لکھٌا ہے موت سے پہلے
کسی کے حٔسن کے دریا میں ڈوبنا ہوگا
حریمِ ناز کی قربت کا جاکے مٔلکِ عدم
ہر آنے والے کو انجام دیکھنا ہوگا
فیصلِ دیدا پہ دیدارِ یار کی کیلیں
چراغ بجھنے سے پہلے ہی ٹھوکنا ہوگا
بدن پہ ڈال کے طالب پھِرے لباسِ سَرا
ڈھلے گی شام تو پھر رب سے آشنا ہوگا
✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — संक्षिप्त परिचय
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان
عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …
غزل क्या है?
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
انصاری عمران احمد عبداللہ की और रचनाएँ
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا وقارِ عشق بچانے کے واسطے تجھ...
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا وقارِ عشق بچانے کے واسطے تجھ...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا میری می...
تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں میری ہو جاتی ہے کسر آنکھیں راہ تکتی ہے میری تر آنکھیں موندھ لیتا ہے جب قمر...




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!