اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

عشق کو بے نقاب ہونا تھا

علی سکندر منگل، 21 اپریل 2026
👁 47 ❤️ 0
عشق کو بے نقاب ہونا تھا
عشق کو بے نقاب ہونا تھا
آپ اپنا جواب ہونا تھا
مست جام شراب ہونا تھا
بے خود اضطراب ہونا تھا
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں
ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا
آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے
ہو چکا جو عتاب ہونا تھا
کوچۂ عشق میں نکل آیا
جس کو خانہ خراب ہونا تھا
مست جام شراب خاک ہوتے
غرق جام شراب ہونا تھا
دل کہ جس پر ہیں نقش رنگارنگ
اس کو سادہ کتاب ہونا تھا
ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا
آخرش کامیاب ہونا تھا
ہائے وہ لمحۂ سکوں کہ جسے
محشر اضطراب ہونا تھا
نگۂ یار خود تڑپ اٹھتی
شرط اول خراب ہونا تھا
کیوں نہ ہوتا ستم بھی بے پایاں
کرم بے حساب ہونا تھا
کیوں نظر حیرتوں میں ڈوب گئی
موج صد اضطراب ہونا تھا
ہو چکا روز اولیں ہی جگرؔ
جس کو جتنا خراب ہونا تھا
← Previous Next →

✍️ علی سکندر — Short Introduction

علی سکندر
📍 مرادآباد، اتر پردیش (ہندوستان)

✨ جگر مرادآبادی کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)

🟢 تعارف
جگر مرادآبادی اردو کے مشہور غزل گو شاعر تھے۔
ان کا اصل نام: علی سکندر تھا، جبکہ تخلص “جگر” تھا۔
وہ اپنی رومانوی، مترنم اور دلنشین شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔

📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 6 اپریل 1890ء
📍 مقام: مرادآباد، اتر پردیش (ہندوستان)
والد: علی نظر (شاعری سے شغف رکھتے تھے)
ان کا تعلق ایک ادبی ذوق رکھنے والے گھرانے …

Read more ←
غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by علی سکندر
عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہونا تھا مست جام شراب ہونا تھا بے خود اضطراب ہونا تھا تیری آنکھ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online