افسانچہ
دروازہ
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 19
❤️ 1
باپ بڑھاپے میں آہستہ آہستہ چلتا تھا۔
بیٹے کو اُس کے ساتھ بازار جانا شرمندگی لگتا تھا۔
ایک دن اُس نے غصے میں کہا:
"ابو! آپ گھر پر ہی رہا کریں۔"
باپ خاموش ہوگیا۔
رات کو بیٹا دیر سے گھر آیا۔
دروازہ کھٹکھٹایا… مگر فوراً نہ کھلا۔
چند لمحوں بعد کمزور آواز آئی:
"بیٹا… چلنے میں اب وقت لگتا ہے۔"
بیٹے کے ہاتھ
دروازے پر ہی ٹھہر گئے۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ایک ایسا شاعر جس کے اشعار ل...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں لک...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں کون...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید...
مزید متعلقہ نثر
تجربہ
نوجوان نے بوڑھے شخص سے کہا: "آپ پرانے زمانے کے لوگ کچھ نہیں جانتے۔" بو...
چہرہ
وہ ہر تصویر پر فلٹر لگاتا تھا۔ خود کو خوبصورت دکھانے کیلئے۔ ایک دن اُس کی چھوٹی ...
سیلفی
حادثے میں زخمی آدمی سڑک پر پڑا تھا۔ کچھ لوگ مدد کے بجائے ویڈیو بنا رہے تھے۔ ایک ...
کھانا
ہوٹل میں بچا ہوا کھانا ڈسٹ بن میں پھینکا جا رہا تھا۔ باہر ایک بچہ اپنی بہن سے کہ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!