افسانچہ
دروازہ
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 8
❤️ 1
باپ بڑھاپے میں آہستہ آہستہ چلتا تھا۔
بیٹے کو اُس کے ساتھ بازار جانا شرمندگی لگتا تھا۔
ایک دن اُس نے غصے میں کہا:
"ابو! آپ گھر پر ہی رہا کریں۔"
باپ خاموش ہوگیا۔
رات کو بیٹا دیر سے گھر آیا۔
دروازہ کھٹکھٹایا… مگر فوراً نہ کھلا۔
چند لمحوں بعد کمزور آواز آئی:
"بیٹا… چلنے میں اب وقت لگتا ہے۔"
بیٹے کے ہاتھ
دروازے پر ہی ٹھہر گئے۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب
### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔
بیٹے نے پوچھا:
"اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔
بیٹے نے کہا:
"اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
چراغ
بجلی چلی گئی تھی۔
پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
دادی اماں نے ایک چھوٹا سا...
کرایہ
مکان مالک ہر مہینے کرایے کیلئے شور مچاتا تھا۔
ایک دن کرایہ دار نے روتے ہوئے کہا...
دستک
وہ ہمیشہ غریب رشتہ داروں سے کتراتا تھا۔
فون تک نہیں اٹھاتا تھا۔
ایک رات اُس کے...
کھلونا
امیر بچے نے نیا کھلونا دو منٹ کھیل کر پھینک دیا۔
نوکر کا بیٹا خاموشی سے اُسے دی...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!