بنا عنوان نثر ایک ایک سطر میں
زندگی ایک دریا ہے جو کبھی ٹھہرتا نہیں، ہم بس اس کے بہاؤ میں بہتے چلے جاتے ہیں۔
ہر مسکراہٹ کے پیچھے کوئی نہ کوئی ادھوری کہانی ضرور چھپی ہوتی ہے۔
وقت خاموشی سے سب کچھ بدل دیتا ہے، انسان صرف حیرت سے دیکھتا رہ جاتا ہے۔
خواب وہ سچ ہیں جو آنکھیں بند ہونے کے بعد زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔
کچھ لوگ کتابوں میں نہیں، یادوں میں پڑھے جاتے ہیں اور ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔
خاموشی کبھی کبھی سب سے اونچی چیخ بن جاتی ہے مگر سنائی نہیں دیتی۔
انسان کی اصل پہچان اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کے اعمال ہوتے ہیں۔
امید وہ چراغ ہے جو اندھیرے میں بھی جلنے کا ہنر رکھتا ہے۔
دل کی دنیا عجیب ہوتی ہے، یہاں منطق نہیں صرف احساس بولتا ہے۔
ہر رشتہ وقت کے ساتھ نہیں بدلتا، کچھ رشتے وقت کے باوجود بھی زندہ رہتے ہیں۔
تنہائی میں انسان خود سے زیادہ سچ بولنے لگتا ہے۔
زندگی ہمیں وہی سبق بار بار سکھاتی ہے جو ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!