ہم ایک مصروف قوم ہیں
ایک طنز و مزاحیہ مضمون
ہماری قوم دنیا کی مصروف ترین قوم ہے۔ اتنی مصروف کہ بعض اوقات خود ہمیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آخر ہم کر کیا رہے ہیں۔ صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے موبائل کی زیارت کی جاتی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ رات بھر دنیا میں کون سا انقلاب آ گیا ہے۔ اگر کوئی انقلاب نہ آیا ہو تو ہم خود کسی خبر کو اتنا آگے پھیلا دیتے ہیں کہ شام تک وہ انقلاب بن ہی جاتا ہے۔
آج کل ہر شخص “تجزیہ نگار” ہے۔ محلے کے چچا کریم جو کل تک آلو اور پیاز کے نرخ پر گفتگو فرمایا کرتے تھے، اب بین الاقوامی سیاست پر ایسے تبصرے کرتے ہیں جیسے اقوامِ متحدہ انہی کے مشورے سے چل رہی ہو۔ ایک ہاتھ میں چائے کا کپ اور دوسرے میں موبائل پکڑ کر فرماتے ہیں: “میں پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ عالمی حالات خطرناک رخ اختیار کر رہے ہیں۔” حالانکہ انہیں اپنے گھر کے بجلی کے بل کی تاریخ بھی یاد نہیں ہوتی۔
سوشل میڈیا نے تو کمال ہی کر دیا ہے۔ اب علم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہی، صرف اعتماد ہونا چاہیے۔ جو شخص کل تک “ق” اور “ک” میں فرق نہیں کرتا تھا، آج وہ قوم کی فکری رہنمائی کر رہا ہے۔ ہر پوسٹ کے نیچے “میرے خیال میں” لکھ کر ایسی ایسی باتیں فرمائی جاتی ہیں کہ ارسطو بھی قبر میں کروٹ بدل لے۔
ہمارے ہاں سب سے زیادہ محنت موبائل فون کرتا ہے۔ انسان تو صرف انگلی چلاتا ہے۔ صبح سے شام تک لوگ اسکرین پر ایسے جھکے رہتے ہیں جیسے قومی خزانہ وہیں دفن ہو۔ گھر میں اگر ماں آواز دے تو جواب نہیں آتا، مگر واٹس ایپ کی “ٹنگ” سنتے ہی آدمی ایسے چونکتا ہے جیسے فوجی جوان سرحد پر الرٹ ہو گیا ہو۔
مہنگائی بھی بڑی دلچسپ چیز ہے۔ ہر شخص اس سے پریشان ہے مگر چائے ہوٹل پر تین گھنٹے بیٹھ کر اسی مہنگائی پر گفتگو ضرور کرے گا۔ ایک دوست نے کہا: “بھائی! حالات بہت خراب ہیں، خرچ پورا نہیں ہوتا۔” یہ فرما کر اُس نے آٹھ سو روپے کی کافی منگوائی اور تصویر کھینچ کر لکھ دیا: “Simple living!”
تعلیم کا حال یہ ہے کہ طالب علم امتحان سے ایک رات پہلے پوری کتاب کو ایسے دیکھتا ہے جیسے ڈاکٹر مریض کی آخری رپورٹ دیکھتا ہے۔ پھر دعا کرتا ہے کہ “یا اللہ! جو پڑھا نہیں وہی آ جائے۔” اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کبھی کبھی واقعی وہی آ جاتا ہے۔
سیاست ہمارے ہاں ایک ایسا کھیل ہے جس میں ہر شخص کوچ بھی ہے، کھلاڑی بھی اور امپائر بھی۔ الیکشن کے دن قوم کو اچانک اپنی رائے کی بڑی قدر محسوس ہوتی ہے، مگر اگلے دن پھر سب معمول کے مطابق سوشل میڈیا پر حکومت گرانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
آج کا انسان عجیب الجھن میں مبتلا ہے۔ وقت بچانے کے لیے مشینیں بنائیں، پھر انہی مشینوں پر سارا وقت ضائع کر دیا۔ دوستی ہزاروں لوگوں سے ہے مگر دل کی بات کرنے والا کوئی نہیں۔ تصویریں ہزاروں ہیں مگر سکون ایک بھی نہیں۔
ہماری قوم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہم ہر مسئلے پر فوراً “ماہر” بن جاتے ہیں۔ اگر بارش ہو جائے تو ہم موسمیات کے ماہر، پیٹرول مہنگا ہو جائے تو معاشیات کے ماہر، اور کرکٹ میچ ہار جائیں تو کوچ بن جاتے ہیں۔ گویا ایک عام آدمی کے اندر کم از کم چار پانچ ماہرین تو ضرور چھپے ہوتے ہیں۔
لیکن ان سب باتوں کے باوجود اس قوم میں ایک عجیب زندگی ہے۔ ہم ہنستے بھی ہیں، روتے بھی ہیں، شکایت بھی کرتے ہیں اور امید بھی رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تمام تر مسائل کے باوجود زندگی چل رہی ہے اور ہم اب بھی پورے اعتماد سے کہتے ہیں: “فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا!”
حالانکہ ہمیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کب اور کیسے
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!