بین الاقوامی کتاب میلہ (ایک جدید رپورتاژ)
شہر کی سرد مگر روشن صبح تھی۔ سورج ابھی پوری طرح نمودار نہیں ہوا تھا مگر شہر کے مرکزی نمائشی میدان کی فضا غیر معمولی جوش و خروش سے لبریز تھی۔ سڑکوں پر نوجوانوں، ادیبوں، طلبہ، اساتذہ اور کتاب دوست خاندانوں کا ایک ہجوم رواں تھا۔ ہر شخص کے چہرے پر ایک عجیب سی شگفتگی تھی، گویا آج کسی تہذیبی عید کا دن ہو۔ موقع تھا “بین الاقوامی کتاب میلہ” کے افتتاح کا، جس نے پورے شہر کو علم و ادب کے رنگوں سے سجا دیا تھا۔
نمائشی میدان کے داخلی دروازے پر رنگا رنگ بینرز آویزاں تھے۔ مختلف زبانوں کے جملے علم کی عظمت کا اعلان کر رہے تھے۔ اندر قدم رکھتے ہی کتابوں کی خوشبو، لوگوں کی گفتگو اور کیمروں کی چمکتی ہوئی روشنیاں ایک دلکش منظر پیش کر رہی تھیں۔ ہر طرف اسٹال ہی اسٹال تھے؛ کہیں ناولوں کی بہار تھی، کہیں تاریخ و فلسفے کی کتابیں سجی تھیں اور کہیں بچوں کے ادب نے رنگ برنگی تصویروں سے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا تھا۔
ایک گوشے میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ڈیجیٹل لائبریری قائم تھی جہاں نوجوان بڑی دلچسپی سے ای بکس اور آڈیو بکس کا تجربہ کر رہے تھے۔ روایتی کتاب اور جدید ٹیکنالوجی کا یہ حسین امتزاج اس حقیقت کا اعلان کر رہا تھا کہ علم کا سفر وقت کے ساتھ بدل ضرور جاتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا۔
میلے میں ملک و بیرونِ ملک کے معروف ادیب اور شاعر بھی شریک تھے۔ مختلف ہالوں میں ادبی نشستیں جاری تھیں۔ کہیں نئی کتاب کی رونمائی ہو رہی تھی، کہیں مکالمہ جاری تھا اور کہیں نوجوان شعرا اپنا کلام سنا رہے تھے۔ سامعین پوری توجہ سے گفتگو سن رہے تھے۔ ادب، سیاست، تہذیب، زبان اور سوشل میڈیا کے اثرات جیسے موضوعات پر دلچسپ مباحث جاری تھے۔
ایک ہال میں بچوں کی غیر معمولی بھیڑ تھی۔ وہاں کہانی سنانے کا پروگرام منعقد تھا۔ ایک بزرگ ادیب بچوں کو دلچسپ انداز میں کہانیاں سنا رہے تھے اور بچے حیرت و مسرت سے ہمہ تن گوش تھے۔ یہ منظر اس حقیقت کی یاد دلا رہا تھا کہ کتاب آج بھی انسانی تخیل کو زندہ رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
میلے کی سب سے متاثر کن بات یہ تھی کہ یہاں ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ موجود تھے۔ نوجوان ہاتھوں میں ناول لیے پھر رہے تھے، بزرگ تاریخ کی کتابوں میں کھوئے ہوئے تھے اور خواتین ادب، نفسیات اور گھریلو موضوعات کی کتابیں خرید رہی تھیں۔ کئی لوگ اپنی پسندیدہ کتابوں کے ساتھ تصویریں بنا رہے تھے، گویا علم اب صرف مطالعے کی چیز نہیں بلکہ تہذیبی شناخت بھی بنتا جا رہا ہے۔
شام ڈھلتے ڈھلتے میلے کی رونق اور بھی بڑھ گئی۔ روشنیوں سے جگمگاتے اسٹال، چائے اور کافی کی خوشبو، ادبی گفتگوؤں کی گونج اور کتابوں سے بھرے تھیلے اٹھائے لوگ ایک دل آویز منظر پیش کر رہے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے شہر چند لمحوں کے لیے مادّی مصروفیات سے نکل کر علم و ادب کی دنیا میں داخل ہو گیا ہو۔
یہ کتاب میلہ محض ایک تجارتی نمائش نہیں تھا بلکہ ایک تہذیبی اعلان تھا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی کتاب اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس میلے نے یہ ثابت کیا کہ قومیں صرف سڑکوں اور عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ کتابوں، علم اور شعور سے اپنا مستقبل روشن بناتی ہیں۔
جب رات کے آخری پہر میں میلے سے واپس لوٹا تو ہاتھ میں چند کتابیں تھیں مگر دل میں اس سے کہیں زیادہ روشنی محسوس ہو رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کتابوں کی یہ دنیا انسان کو نہ صرف علم عطا کرتی ہے بلکہ اُسے خود اپنی ذات سے بھی روشناس کراتی ہے
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!