افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
آخری کرسی
اسٹیج پر سب بڑی کرسی کیلئے لڑ رہے تھے۔
ایک بوڑھا آدمی خاموشی سے پیچھے بیٹھ گیا۔
پروگرام ختم ہوا تو سب لوگ
اُسی بوڑھے کے پاس دعا لینے پہنچ گئے۔
اُس دن
سب کو معلوم ہوا
عزت کرسی سے نہیں ملتی۔
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
دولت
وہ اپنے بچوں کیلئے دولت جمع کرتا رہا۔
بچوں نے بڑے ہوکر اُسے اولڈ ایج ہوم چھوڑ دیا۔
رات کو اُس نے آہستہ سے کہا:
"کاش…
میں نے بینک بیلنس کے بجائے
رشتے جمع کیے ہوتے۔"
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
جھاڑو
صفائی کرنے والی عورت روز خاموشی سے کام کرتی تھی۔
لوگ اُس سے نظریں چرا لیتے۔
ایک دن وہ نہ آئی۔
پورا دفتر گندگی سے بھر گیا۔
تب سب کو احساس ہوا…
کچھ لوگ چھوٹے نہیں ہوتے
صرف خاموش ہوتے ہیں۔
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
پرچہ
غریب طالبعلم امتحان کی فیس نہ بھر سکا۔
پرنسپل نے سختی سے منع کردیا۔
ایک استاد خاموشی سے آگے بڑھے اور فیس جمع کردی۔
لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اُس دن
ایک پرچہ نہیں…
ایک مستقبل بچ گیا تھا۔
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
تلاش
وہ ساری دنیا میں خوشی تلاش کرتا رہا۔
مہنگی گاڑیاں، بڑے ہوٹل، لمبے سفر…
ایک دن تھک کر گھر آیا تو بیٹی دوڑ کر گلے لگ گئی۔
اُس نے مسکرا کر آنکھیں بند کرلیں۔
شاید
جس خوشی کو وہ دنیا میں ڈھونڈ رہا تھا...
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
بچا ہوا کھانا
شادی میں کھانے کے بڑے بڑے ڈرم بھرے پڑے تھے۔
پروگرام کے بعد سب کچرے میں پھینکا جانے لگا۔
ایک ملازم نے آہستہ سے کہا:
"صاحب… اجازت ہو تو گھر لے جاؤں؟"
اُس کی آنکھوں میں
بچوں کی بھوک بول رہ...
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
تجربہ
نوجوان نے بوڑھے شخص سے کہا:
"آپ پرانے زمانے کے لوگ کچھ نہیں جانتے۔"
بوڑھا مسکرایا اور خاموش رہا۔
کچھ سال بعد
زندگی نے نوجوان کو ٹھوکریں دینا شروع کیں۔
تب اُسے معلوم ہوا…
سفید بال
دھوپ...
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
روشن چہرہ
وہ مہنگی کریمیں لگا کر خوبصورت بننے کی کوشش کرتی تھی۔
ایک دن اُس نے اپنی غریب پڑوسن کو دیکھا
جو پرانے کپڑوں میں بھی خوش دکھ رہی تھی۔
اُس نے حیرت سے پوچھا:
"تم اتنی خوش کیسے رہتی ہو؟"
پڑ...
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
تصویرِ باپ
باپ کے انتقال کے بعد
بیٹے نے اُس کی بڑی سی تصویر دیوار پر لگا دی۔
مہمان تعریف کرنے لگے:
"بڑی محبت کرتے تھے آپ اپنے والد سے!"
بیٹا خاموش رہا۔
کیونکہ
زندگی میں اُس نے کبھی باپ کے ساتھ بی...
افسانچہ
ہفتہ، 23 مئی 2026
جگہ
بس میں ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔
سب نوجوان موبائل میں مصروف تھے۔
ایک غریب مزدور فوراً اُٹھ کھڑا ہوا:
"بابا جی، یہاں بیٹھ جائیں۔"
بوڑھا مسکرایا۔
شاید
تعلیم ہمیشہ کتابوں سے نہیں ملتی۔


