اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں

📖 تمام نثر

افسانے، ناول، مضامین اور سفر نامے

افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

آئس کریم

چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خرید دی۔ بچہ خوشی سے بولا: "انکل! آپ بہت اچھے ہیں۔" آدمی مسکرایا۔ شاید اُسے بھی پہلی بار اپنا آپ اچھا لگا ت...
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

سیٹی

فیکٹری کی سیٹی بجتے ہی مزدور دوڑ پڑتے تھے۔ ایک بچہ روز دروازے پر اپنے باپ کا انتظار کرتا۔ جیسے ہی باپ باہر آتا بچہ لپٹ جاتا۔ باپ کی ساری تھکن اُتر جاتی۔ شاید محبت سب سے بڑی تنخواہ ہے۔
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

پودا

باپ روز پودے کو پانی دیتا تھا۔ بیٹا ہنستا: "اتنی محنت ایک چھوٹے پودے کیلئے؟" کچھ سال بعد وہی درخت گھر کو سایہ دے رہا تھا۔ باپ آہستہ سے بولا: "رشتے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔"
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

چابی والا کھلونا

بچہ ضد کرکے چابی والا کھلونا لے آیا۔ دو دن بعد وہ کونے میں پڑا تھا۔ دادا مسکرائے اور بولے: "بیٹا… دل سے کھیلنے والی چیزیں جلدی پرانی نہیں ہوتیں۔" بچہ خاموش ہوگیا۔
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

پرانا کوٹ

بیٹا اپنے باپ کے پرانے کوٹ پر ہنستا تھا۔ ایک دن اُسے جیب میں ایک پرچی ملی: "اس ماہ بھی اپنا کوٹ نہیں خریدا… بیٹے کی فیس بھر دی۔" بیٹے نے کوٹ سینے سے لگا لیا۔
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

آخری نوالہ

گھر میں صرف ایک روٹی بچی تھی۔ ماں نے کہا: "مجھے بھوک نہیں۔" باپ بولا: "میں کھا چکا ہوں۔" بچہ خوشی سے روٹی کھانے لگا۔ اور والدین پانی پی کر سو گئے۔
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

ہاتھ

بوڑھے مزدور کے ہاتھ بہت کھردرے تھے۔ پوتے نے پوچھا: "دادا! آپ کے ہاتھ ایسے کیوں ہیں؟" دادا نے مسکرا کر کہا: "تمہارے ابو کے نرم ہاتھوں کیلئے۔" پوتا اُن ہاتھوں کو دیر تک دیکھتا ر...
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

پنسل

استاد نے بچے کی ٹوٹی پنسل دیکھی اور نئی دے دی۔ بچہ بولا: "سر! یہ ابھی چل رہی تھی۔" استاد مسکرایا: "مگر بہت چھوٹی ہوگئی تھی۔" بچہ فوراً بولا: "پھر بھی اس نے لکھنا نہیں چھ...
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

چہرے

محفل میں سب ہنس رہے تھے۔ ایک آدمی خاموش کونے میں بیٹھا تھا۔ لوگ اُسے مغرور سمجھ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد خبر ملی کہ اُس کی ماں اسپتال میں ہے۔ سب نظریں جھکا گئے۔ ہر خاموش چہرہ تکبر نہیں ہوتا۔
افسانچہ ہفتہ، 23 مئی 2026

گھنٹی

بوڑھی ماں ہر آواز پر دروازے کی طرف دیکھتی تھی۔ ایک دن گھنٹی بجی۔ وہ خوشی سے دوڑی… مگر باہر کورئیر والا تھا۔ رات کو اُس نے آہستہ سے کہا: "اب تو دروازہ بھی مجھ سے مذاق کرتا ہے۔"
ادبی AI معاون
● آن لائن