اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل

منتظم عاصی کی سماجی و سیاسی غزل - نین بدراں رتِ دھسکال میں آ جاتے ہیں

منتظم عاصیؔ جمعرات، 29 اکتوبر 2026
👁 47 ❤️ 0
نین بدراں رتِ دھسکال میں آ جاتے ہیں
کتنے کمزور ہیں خوشحال میں آ جاتے ہیں
رات کو لُوٹ کے جو دن میں کھلائیں روٹی
وہ لٹیرے صفِ کرپال میں آ جاتے ہیں
آگ لگتی ہے تو امداد کے وعدے لے کر
رہنما خلعتِ بیتال میں آ جاتے ہیں
ہائے افسوس کہ ہر پانچ برس میں اک بار
نیند کھلتی ہے تو پاتال میں آ جاتے ہیں
خواب حاکم نے دکھائے ہیں جو تعبیر تلک
زندہ رہتے ہوئے کنکال میں آ جاتے ہیں
تنگ حالات کسی اپنے کو بتا کر دیکھو
خود گڑھے مردے بھی چوپال میں آ جاتے ہیں
کتنے مصروف مسیحا ہیں غریبوں کے لئے
اہلِ ثروت ہوں تو تتکال میں آ جاتے ہیں
📖 خلاصہ

یہ غزل معاشرے کے مختلف طبقات کی منافقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس میں غریبوں کی بے بسی، حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں، الیکشن کے دنوں میں سیاستدانوں کی شعبدہ بازیوں، رشتوں کی خود غرضی اور نظامِ صحت یا انصاف میں امیروں کو ملنے والی ترجیح پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔

📚 ادبی جائزہ

• ادبی نقطہ نظر سے یہ غزل "شاعری برائے زندگی" کی بہترین مثال ہے۔ شاعر نے روایتی عشق و محبت کے موضوعات سے ہٹ کر عصری مسائل کو اپنی غزل کا مو…

• ادبی نقطہ نظر سے یہ غزل "شاعری برائے زندگی" کی بہترین مثال ہے۔ شاعر نے روایتی عشق و محبت کے موضوعات سے ہٹ کر عصری مسائل کو اپنی غزل کا موضوع بنایا ہے، جس سے غزل میں وسعت اور گہرائی پیدا ہوئی ہے۔

🖋️ تنقیدی جائزہ

غزل کے کچھ قوافی (جیسے دھسکال، کرپال، بیتال، تتکال) روایتی اردو غزل کے مزاج سے تھوڑے مختلف اور ہندی آمیز ہیں، لیکن شاعر نے انہیں جس مہارت سے بحر میں پ…

غزل کے کچھ قوافی (جیسے دھسکال، کرپال، بیتال، تتکال) روایتی اردو غزل کے مزاج سے تھوڑے مختلف اور ہندی آمیز ہیں، لیکن شاعر نے انہیں جس مہارت سے بحر میں پرویا ہے وہ ان کی تخلیقی گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔ غزل کا لہجہ طنزیہ اور احتجاجی ہے۔

✦ مرکزی خیال

اس غزل کا مرکزی خیال دورِ حاضر کی سماجی بے حسی، سیاسی منافقت، امیر و غریب کا تفاوت اور انسانی رشتوں کی کمزوری ہے۔ شاعر نے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح حاکم …

اس غزل کا مرکزی خیال دورِ حاضر کی سماجی بے حسی، سیاسی منافقت، امیر و غریب کا تفاوت اور انسانی رشتوں کی کمزوری ہے۔ شاعر نے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح حاکم وقت عوام کو جھوٹے خواب دکھا کر لوٹتے ہیں اور غریب ہمیشہ پس کر رہ جاتا ہے۔

✦ شعر بہ شعر تشریح

شعر نمبر 1
نین بدراں رتِ دھسکال میں آ جاتے ہیں
کتنے کمزور ہیں خوشحال میں آ جاتے ہیں
مشکل الفاظ کے معانی:
نین بدراں: بادل جیسے آنسو بہانے والی آنک…

شعر نمبر 1

نین بدراں رتِ دھسکال میں آ جاتے ہیں
کتنے کمزور ہیں خوشحال میں آ جاتے ہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

نین بدراں: بادل جیسے آنسو بہانے والی آنکھیں / اشکبار آنکھیں۔
رتِ دھسکال: قحط کا موسم / مصیبت کا دور۔
خوشحال: اچھے دن / آسودگی کا وقت۔

مرکزی مفہوم:

انسان مصیبت کے وقت بہت زیادہ روتا ہے لیکن تھوڑی سی خوشحالی آتے ہی اپنی اوقات اور ماضی کی تکلیفیں بھول جاتا ہے۔

مکمل تشریح:

اس شعر میں شاعر انسانی نفسیات اور فطرت کی کمزوری کو بیان کر رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے یا معاشی تنگی کا دور (دھسکال) آتا ہے، تو اس کی آنکھیں بادلوں کی طرح برسنے لگتی ہیں، یعنی وہ بے بس ہو کر رونے لگتا ہے۔ مگر انسان کی فطرت اس قدر کمزور اور خود غرض ہے کہ جیسے ہی اس کے دن بدلتے ہیں اور تھوڑی سی خوشحالی آتی ہے، وہ فوراََ اپنے برے دنوں کو بھول جاتا ہے اور عیش و عشرت میں مگن ہو کر غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

شعر نمبر 2

رات کو لُوٹ کے جو دن میں کھلائیں روٹی
وہ لٹیرے صفِ کرپال میں آ جاتے ہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

صفِ کرپال: مہربان اور سخی لوگوں کی صف / رحمدلوں کی جماعت۔
لٹیرے: چور / ڈاکو / کرپٹ لوگ۔

مرکزی مفہوم:

معاشرے کے منافق امیر اور حاکم رات کو کرپشن اور لوٹ مار کرتے ہیں اور دن میں غریبوں کو خیرات بانٹ کر سخی بن بیٹھتے ہیں۔

مکمل تشریح:

شاعر نے اس شعر میں معاشرے کے مقتدر اور سرمایہ دار طبقے کی بدترین منافقت پر گہرا طنز کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو لوگ رات کے اندھیرے میں غریبوں کا حق مارتے ہیں، رشوت خوری اور کرپشن کے ذریعے عوام کی دولت لوٹتے ہیں، وہی لوگ دن کے اجالے میں غریبوں کو روٹی کھلا کر اور خیرات کا ڈراما کر کے خود کو بہت بڑا ہمدرد، سخی اور مہربان (کرپال) ثابت کرتے ہیں۔ ان کا یہ روپ محض ایک دھوکا ہے۔

شعر نمبر 3

آگ لگتی ہے تو امداد کے وعدے لے کر
رہنما خلعتِ بیتال میں آ جاتے ہیں
مشکل الفاظ کے معانی:
امداد: مدد / اعانت۔
رہنما: سیاسی لیڈر / حکمران۔
خلعتِ بیتال: خوفناک روپ / ڈراؤنا لباس / بے حسی کا لبادہ۔

مرکزی مفہوم:

جب عوام پر کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے تو سیاسی رہنما مدد کا جھوٹا دلاسا دے کر اپنا ڈراؤنا اور مفاد پرست روپ لے کر نمودار ہو جاتے ہیں۔

مکمل تشریح:

اس شعر میں ملک کے سیاسی رہنماؤں کی بے حسی اور موقع پرستی پر چوٹ کی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب بھی غریبوں کی بستیوں میں کوئی آفت آتی ہے، یا ان کا سب کچھ جل کر خاکستر ہو جاتا ہے، تو ہمارے سیاستدان سچی ہمدردی کرنے کے بجائے محض فوٹو سیشن اور امداد کے جھوٹے وعدے کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ان کا یہ منافقانہ روپ ایک ڈراؤنے آسیب (بیتال) کی طرح ہوتا ہے جو غریبوں کے دکھ کا تماشہ بناتا ہے۔

شعر نمبر 4
ہائے افسوس کہ ہر پانچ برس میں اک بار
نیند کھلتی ہے تو پاتال میں آ جاتے ہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

پاتال: زمین کی سب سے نچلی تہہ / غریبوں کی کچلی ہوئی بستیاں۔
پانچ برس: سیاسی الیکشن کی مدت۔

مرکزی مفہوم:

الیکشن کے دنوں میں پانچ سال تک غائب رہنے والے سیاستدان اچانک جاگ اٹھتے ہیں اور ووٹوں کے لیے غریبوں کے پسماندہ علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

مکمل تشریح:

شاعر جمہوری نظام کی ایک تلخ سچائی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھنے والے حکمران عام دنوں میں غریبوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہر پانچ سال بعد جب الیکشن کا وقت آتا ہے، تو ان رہنماؤں کی اقتدار کی بھوک انہیں جگا دیتی ہے۔ وہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے زمین کی گہرائیوں یعنی انتہائی پسماندہ جھونپڑیوں اور پاتال جیسے علاقوں میں بھی ذلت برداشت کر کے چلے آتے ہیں۔

شعر نمبر 5

خواب حاکم نے دکھائے ہیں جو تعبیر تلک
زندہ رہتے ہوئے کنکال میں آ جاتے ہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

حاکم: بادشاہ / حکمران / حکومت۔
تعبیر: خواب کا سچ ہونا۔
کنکال: ہڈیوں کا ڈھانچہ / شدید بھوک اور افلاس کی حالت۔

مرکزی مفہوم:

حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں اور ترقی کے خوابوں کے سچ ہونے کا انتظار کرتے کرتے غریب انسان جیتے جی ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتا ہے۔

مکمل تشریح:

اس شعر میں عوام کی معاشی بدحالی اور غربت کا نوحہ بیان کیا گیا ہے۔ حاکمِ وقت عوام کو الیکشن کے دنوں میں اور عام دنوں میں بھی خوشحالی، روزگار اور ترقی کے اتنے سنہرے خواب دکھاتا ہے کہ سیدھی سادھی عوام ان پر یقین کر لیتی ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ان خوابوں کی تعبیر کا انتظار کرتے کرتے غریبوں کی نسلیں گزر جاتی ہیں اور وہ بھوک، ناداری اور افلاس کی وجہ سے زندہ رہتے ہوئے بھی محض ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ (کنکال) بن کر رہ جاتے ہیں۔

شعر نمبر 6

تنگ حالات کسی اپنے کو بتا کر دیکھو
خود گڑھے مردے بھی چوپال میں آ جاتے ہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

تنگ حالات: معاشی تنگی / برے دن / پریشانی۔
گڑھے مردے: پرانی غلطیاں / ماضی کے گلے شکوے۔
چوپال: گاؤں یا محلے کی بیٹھک / عوامی محفل۔

مرکزی مفہوم:

جب آپ اپنے قریبی لوگوں کو اپنی مجبوری بتاتے ہیں، تو وہ مدد کرنے کے بجائے آپ کو ذلیل کرنے کے لیے آپ کی پرانی غلطیاں اکھاڑ لاتے ہیں۔

مکمل تشریح:

شاعر نے اس شعر میں خونی اور قریبی رشتوں کی خود غرضی اور بے مروتی کا پردہ چاک کیا ہے۔ شاعر ایک مشورہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ کبھی آزمائش کے طور پر اپنے برے اور تنگ حالات کسی اپنے کہلانے والے کو بتا کر دیکھو۔ وہ آپ کی مالی یا اخلاقی مدد تو دور کی بات، الٹا آپ کو نیچا دکھانے کے لیے آپ کی ماضی کی تمام تر خامیاں اور پرانی باتیں (گڑھے مردے) نکال لائے گا اور چوپال یعنی سب کے سامنے آپ کا مذاق اڑائے گا۔

شعر نمبر 7

کتنے مصروف مسیحا ہیں غریبوں کے لئے
اہلِ ثروت ہوں تو تتکال میں آ جاتے ہیں

مشکل الفاظ کے معانی:

مسیحا: جان بچانے والا / ڈاکٹر / جج / مددگار افسران۔
اہلِ ثروت: امیر لوگ / دولت مند طبقہ۔
تتکال: فوری طور پر / بنا کسی تاخیر کے (Urgent)۔

مرکزی مفہوم:

ملک کے نظام میں غریبوں کی داد رسی کے لیے افسران اور ڈاکٹروں کے پاس وقت نہیں ہوتا، لیکن امیروں کا کام فوراََ چٹکیوں میں کر دیا جاتا ہے۔

مکمل تشریح:

یہ شعر ہمارے ہسپتالوں، عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے وی آئی پی (VIP) کلچر پر ایک زبردست طنز ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ غریبوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے علاج معالجے کے لیے ہمارے یہ نام نہاد 'مسیحا' ہمیشہ بہت زیادہ مصروفیت کا بہانہ بناتے ہیں اور غریب لائنوں میں دھکے کھاتا رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی کوئی بڑا امیر، چوہدری یا دولت مند شخص سامنے آتا ہے، تو یہی مصروف مسیحا اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کی خدمت کے لیے 'تتکال' یعنی فوری طور پر حاضر ہو جاتے ہیں۔

✦ فنی محاسن

غزل بحرِ رمل (فَاعِلَاتُنْ فَعِلَاتُنْ فَعِلَاتُنْ فَعِلُنْ) میں کہی گئی ہے۔ اس میں صنعتِ تضاد (رات/دن، غریب/اہلِ ثروت) کا خوبصورت استعمال ہے۔ زبان سا…

غزل بحرِ رمل (فَاعِلَاتُنْ فَعِلَاتُنْ فَعِلَاتُنْ فَعِلُنْ) میں کہی گئی ہے۔ اس میں صنعتِ تضاد (رات/دن، غریب/اہلِ ثروت) کا خوبصورت استعمال ہے۔ زبان سادہ مگر پرتاثیر ہے۔

✦ علامت نگاری

غزل میں 'کنکال' (بھوک اور افلاس کی علامت)، 'پاٹال' (سیاسی زوال اور ذلت کی علامت)، اور 'تتکال' (امیروں کو ملنے والی فوری …

غزل میں 'کنکال' (بھوک اور افلاس کی علامت)، 'پاٹال' (سیاسی زوال اور ذلت کی علامت)، اور 'تتکال' (امیروں کو ملنے والی فوری ترجیح کی علامت) جیسی علامتیں استعمال کی گئی ہیں۔

✦ استعارات و تشبیہات

'نین بدراں' (آنسوؤں سے بھری آنکھیں جو بادل کی مانند ہیں)، اور 'خلعتِ بیتال' (سیاسی رہنماؤں کا منافقانہ روپ) خوبصورت استعارات ہیں۔

✦ شاعر کے فکری زاویے

منتظم عاصی ایک حساس دل رکھنے والے شاعر ہیں جو سماج کے نچلے طبقے کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کی فکر عوامی ہے اور وہ نظامِ وقت کے خلاف ایک پرامن با…

منتظم عاصی ایک حساس دل رکھنے والے شاعر ہیں جو سماج کے نچلے طبقے کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کی فکر عوامی ہے اور وہ نظامِ وقت کے خلاف ایک پرامن باغی کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔

✦ آج کے دور میں غزل کی معنویت

• آج کے دور میں جہاں عام انسان معاشی اور سیاسی طور پر پامال ہو رہا ہے، ایسی غزلیں عوام کی آواز بنتی ہیں۔ یہ غزل ثابت کرتی ہے کہ غزل صرف زلف و رخسار ک…

• آج کے دور میں جہاں عام انسان معاشی اور سیاسی طور پر پامال ہو رہا ہے، ایسی غزلیں عوام کی آواز بنتی ہیں۔ یہ غزل ثابت کرتی ہے کہ غزل صرف زلف و رخسار کی داستان نہیں بلکہ وقت کا نوحہ بھی ہو سکتی ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

## شخصیت، ادبی سفر اور شعری خدمات
منتظم عاصی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے شعر و ادب کی دنیا میں کسی باقاعدہ ادبی ادارے یا رسمی تربیتی سلسلے کے سہارے کے بجائے اپنے شوق، مطالعے، مسلسل مشق، اساتذہ کی رہنمائی اور غیر معمولی جنونِ سخن کے ذریعے اپنا راستہ بنایا۔ ان کا ادبی سفر محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اپنے اندر …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

منتظم عاصیؔ کی مزید
سجدۂ دوام** معروف شاعر **منتظم عاصیؔ** کا ایک منفرد نعتیہ و منقبتی شعری مجموعہ ہے جس میں عشقِ الٰہی...
خود سے خود کو ہے بنایا، اے سارے جہاں کے والی، اللہ ھو خود کو تونے ہے چھپایا، اے پردہ کئے خود عالی، ا...
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے دنیا انسانوں سے خالی ہے اور میں اکیلا تنہائی کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں کو...
"حرفِ عظیم میم" منتظم عاصیؔ کی نعتیہ و منقبتی شاعری کا مجموعہ ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ ا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن