اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
غزل

ڈنکا اس کی پارسائی کا بجایا جائے گا | ظلم، منافقت اور سماجی ناانصافی پر تنقیدی غزل | ادبی جائزہ

عبدالدیان اسد جمعہ، 10 جولائی 2026
👁 32 ❤️ 0
ڈنکا اس کی پارسائی کا بجایا جائے گا
پھر کسی قاتل کو مسند پر بٹھایا جائے گا
پہلے اک معصوم کا گھر پھونک ڈالا جائے گا
پھر کسی معصوم کو سولی پہ لایا جائے گا
جھوٹ کی تشہیر کی جائے گی پہلے دھوم سے
پھر صداقت کے چراغوں کو بجھایا جائے گا
پہلے تو مل کر کریں گے سب حمایت ظلم کی
پھر کسی جگنو کو سورج سے ڈرایا جائے گا
راستے دشوار کر کے منزلِ مقصود کے
پھر کسی اک آبلہ پا کو بلایا جائے گا
خیر مقدم ہوگا پہلے پھول سے دیوانے کا
پھر اسے کانٹوں کے بستر پر سلایا جائے گا
📖 Summary

یہ غزل ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے جہاں اقدار الٹ چکی ہیں۔ مجرموں کو عزت دی جاتی ہے جبکہ بے گناہوں کو سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ جھوٹ کو عام کیا جاتا ہے، سچ کو دبایا جاتا ہے، ظلم کی حمایت کی جاتی ہے اور حق کی آواز بلند کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ غزل کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جب انصاف، دیانت اور صداقت کو نظر انداز کر دیا جائے تو معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

📚 Literary Review

یہ غزل جدید اردو شاعری کی احتجاجی روایت کی ایک مؤثر مثال ہے۔ شاعر نے معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی زوال کو نہایت سادہ مگر گہرے اسلوب میں پیش کیا ہے۔ ہر شع…

یہ غزل جدید اردو شاعری کی احتجاجی روایت کی ایک مؤثر مثال ہے۔ شاعر نے معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی زوال کو نہایت سادہ مگر گہرے اسلوب میں پیش کیا ہے۔ ہر شعر میں ایک تلخ حقیقت کو علامتی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ "قاتل"، "معصوم"، "چراغ"، "جگنو"، "سورج"، "پھول" اور "کانٹے" جیسی علامتیں غزل کے معنوی حسن کو بڑھاتی ہیں۔
غزل کی زبان عام فہم، رواں اور پراثر ہے۔ ردیف "جایا جائے گا" مستقبل کے اندیشوں کو نمایاں کرتی ہے، جبکہ قافیہ غزل میں موسیقیت اور تسلسل پیدا کرتا ہے۔ شاعر نے تضاد (Contrast) کی صنعت سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے؛ مثلاً قاتل کو مسند اور معصوم کو سولی، جھوٹ کی تشہیر اور سچ کے چراغ بجھانا، پھول اور کانٹے وغیرہ۔
غزل اپنے علامتی اسلوب، سماجی شعور اور فکری گہرائی کی وجہ سے قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور اسے محض جذباتی اظہار کے بجائے ایک فکری احتجاج کی صورت عطا کرتی ہے۔

🖋️ Critical Review

تنقیدی اعتبار سے یہ غزل موجودہ سماجی اور سیاسی حالات پر ایک مضبوط احتجاج ہے۔ شاعر نے کسی خاص شخصیت یا واقعے کا ذکر کیے بغیر ایسے عمومی حالات بیان کیے …

تنقیدی اعتبار سے یہ غزل موجودہ سماجی اور سیاسی حالات پر ایک مضبوط احتجاج ہے۔ شاعر نے کسی خاص شخصیت یا واقعے کا ذکر کیے بغیر ایسے عمومی حالات بیان کیے ہیں جو ہر دور میں اپنی معنویت رکھتے ہیں۔ یہی آفاقیت غزل کی بڑی خوبی ہے۔
البتہ غزل کا لہجہ ابتدا سے انتہا تک شدید مایوسی اور تلخی لیے ہوئے ہے۔ اگر کسی شعر میں امید یا مزاحمت کا پہلو بھی شامل ہوتا تو فکری توازن مزید نمایاں ہو سکتا تھا۔ اس کے باوجود غزل کی فنی ساخت، علامتی اظہار، فکری یکسانیت اور معاشرتی شعور اسے ایک کامیاب احتجاجی غزل کے طور پر ممتاز کرتے ہیں۔

← Previous Next →

✍️ عبدالدیان اسد — Short Introduction

📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

نام؛ عبدالدیان عبدالرحمن
قلمی نام؛. عبدالدیان اسد
معروف نام؛. عبدالدیان رحمانی
پیشہ؛ پارچہ بافی، اناؤنسر، نظامت
تاریخ پیدائش؛ 2مئی 1970
مسکن؛ گھر نمبر 188 گلی نمبر 2 نجمہ آباد
شہر؛ مالیگاؤں ناسک مہاراشٹر ہندوستان
مشغلہ؛. شاعری، مطالعہ، خدمت خلق
تعلیم؛ دسویں اردو

غزل What is it?

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

More by عبدالدیان اسد
مثلِ منصور زمانے سے وفا مانگے گا عشق، بس دار پہ چڑھنے کی ادا مانگے گا آہ سے اس کی حکومت تری مٹ جائے ...
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
اپنی بربادی کی معذور کہانی بھر کے پھونک مارے گا چلم باز جوانی بھر کے روز جھرنے میں منگائے گی جٹھانی ...
کیا خبر حریفِ دین کو کیا ہے احترام یا حسین عرشِ پاک پر بھی ہے لکھا آپ کا مقام یا حسین لاج رکھ لی رکن...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online