دیگر شاعری
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی – سید دانش نقوی
دانش فراق
جمعہ، 12 جون 2026
👁 585
❤️ 1
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی
عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی
نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زمانہ سے مگر
ایک تصویرِ غمِ شام و سحر باقی رہی
📖 सार
یہ اشعار انسانی زندگی کے طویل سفر، گزرے ہوئے وقت اور یادوں کے دائمی اثرات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ عمر بیت جانے کے باوجود دل میں سفر کی گرد اور تلاش کی کیفیت باقی رہتی ہے۔ وقت کے ساتھ بہت سے نقوش اور واقعات مٹ جاتے ہیں، لیکن بعض غم، احساسات اور یادیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔ غزل میں زندگی کی ناپائیداری اور یادوں کی پائیداری کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
✍️ سید دانش نقوی — संक्षिप्त परिचय
📍 ڈسکہ
شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق
دانش فراق की और रचनाएँ
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ہے...
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا دل گرفتہ فضا رہی ہے آج آپ ک...
نقشِ تمثالِ فریبِ رنگِ امکاں اور ہے آئینہ ادراک میں آئینِ حیراں اور ہے جلوۂ تعبیرِ خوابِ آرزو کے روب...
درد کی شب میں چراغِ آرزو جلتا رہا دل کسی موہوم نقشے کی طرف جاتا رہا شوق کے صحرا میں نقشِ آرزو بنتا ر...




अभी कोई टिप्पणी नहीं — पहली टिप्पणी करें!