اشتہار
اشتہار
اشتہار
This site honours Mr. Akbar Shaikh
Akbar Shaikh
was created in his honour
📖 About him
دیگر شاعری

نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں – سید دانش نقوی | غزل، مفہوم اور تجزیہ

دانش فراق جمعرات، 11 جون 2026
👁 1,060 ❤️ 2
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں
تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں
جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ہے اب تک
دل کا شکوہ لبِ اظہار سے جاتا ہی نہیں
📖 Summary

یہ اشعار محبت کی پائیداری اور یادِ محبوب کی شدت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ دلِ غم زدہ میں امید کا نقش اب بھی قائم ہے اور محبوب کا ذکر اس کے خیالات سے محو نہیں ہوتا۔ اگرچہ محبوب دور ہو چکا ہے، لیکن اس کی یاد اور اس سے وابستہ جذبات اب بھی زندہ ہیں۔ شاعر اپنے دل کے شکوے کو زبان پر لانے کی کوشش کرتا ہے، مگر جذبات کی شدت اسے مکمل اظہار سے روک دیتی ہے۔ اشعار میں محبت، انتظار، امید اور خاموش درد کی کیفیت نمایاں ہے۔

← Previous Next →

✍️ سید دانش نقوی — Short Introduction

📍 ڈسکہ

شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق

More by دانش فراق
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا دل گرفتہ فضا رہی ہے آج ‎آپ  ک...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زمانہ ...
نقشِ تمثالِ فریبِ رنگِ امکاں اور ہے آئینہ ادراک میں آئینِ حیراں اور ہے جلوۂ تعبیرِ خوابِ آرزو کے روب...
درد کی شب میں چراغِ آرزو جلتا رہا دل کسی موہوم نقشے کی طرف جاتا رہا شوق کے صحرا میں نقشِ آرزو بنتا ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 Comments (0)
To comment, please log in

No comments yet — be the first!

Literary AI Assistant
● Online